آزاد کشمیر میں انتخابات مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
آزاد کشمیر انتخابات: مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا اعلان
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے۔ انہوں نے اتوار کو سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان عناصر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے اور انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کو واحد مؤثر راستہ سمجھتی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAC) کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ستمبر 2023 میں قائم ہونے والی اس کمیٹی کے بنیادی مطالبات میں آٹے پر سبسڈی، بجلی کے نرخوں میں کمی اور اشرافیہ کی مراعات میں کمی شامل تھی، جنہیں حکومت نے تسلیم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت آزاد کشمیر میں بجلی کی قیمت تین روپے فی یونٹ ہے اور آٹے سمیت تمام اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دی جا رہی ہے۔
معاہدے پر عملدرآمد اور قانونی نکات
انہوں نے 3 اکتوبر 2025 کو ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیا، جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے مکمل عملدرآمد کی ہدایت دی تھی اور اس کی نگرانی کے لیے کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ ان کے مطابق، 38 میں سے 35 شقوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ باقی چند شقوں میں قانونی اور عدالتی پیچیدگیاں حائل ہیں۔
مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور
وفاقی وزیر نے کہا کہ 30 مئی کو دوبارہ مذاکرات کے دوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بنیادی مطالبہ مہاجرین مقیم پاکستان کے لیے مختص 12 نشستوں کا خاتمہ تھا۔ حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے آل پارٹیز کانفرنس، قانون ساز اسمبلی میں بحث، سپریم کورٹ آزاد کشمیر سے رجوع کرنے اور 9 جون کی کال چند روز کے لیے مؤخر کرنے سمیت چار تجاویز پیش کیں، تاہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے انہیں قبول نہیں کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع سے کسی مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ سڑکوں، سرنگوں، ہوائی اڈوں، بجلی کے نظام اور صحت کی سہولیات کے لیے اربوں روپے مختص کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بڑے منصوبے چند ماہ میں مکمل نہیں ہوتے بلکہ ان کی تکمیل میں کئی سال لگتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ کیا آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان خراب کرنے کی کوششوں کا مقصد آزاد کشمیر اور پاکستان کو الگ اکائیاں ظاہر کرنا، دونوں کے مضبوط تعلقات کو کمزور کرنا یا کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا تو نہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیر کاز کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
