وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سعودی سفیر کی ملاقات، اقتصادی تعاون پر اتفاق
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب سے مملکتِ سعودی عرب کے سفیر، عزت مآب ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے ایک اہم خیرسگالی ملاقات کی جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ ترجیحات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پنجاب میں کسان بینک قائم کرنے کا اعلان، گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر، بلاسود قرضے بھی ملیں گے جیسے معاشی اصلاحات کے تناظر میں سرمایہ کاری کے فروغ کے مواقع تلاش کرنا تھا۔
اہم نکات
- وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے دوطرفہ تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔
- سعودی سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
- وزیر خزانہ نے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری پر بریفنگ دی۔
- ملاقات میں زراعت، کان کنی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
- پاکستان کے سٹریٹیجک جغرافیائی محلِ وقوع کو علاقائی تجارت کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے پر زور دیا گیا۔
پاکستان کی معاشی بحالی اور سعودی سرمایہ کاری

وزیرِ خزانہ نے سعودی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ دوستی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل معاونت کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ سعودی سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو اجاگر کیا، جن کی بنیاد مشترکہ مذہب، تاریخ، باہمی اعتماد اور احترام پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کے درمیان مضبوط روابط عوامی سطح پر تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دونوں ممالک کے لیے باہمی مفاد کے اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
اقتصادی استحکام اور مستقبل کے اہداف
سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان میں معاشی استحکام کی بحالی کے حوالے سے پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی کی صورتحال میں بہتری، نیز بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ اداروں کی جانب سے حالیہ درجہ بندی میں بہتری کا ذکر کیا۔ انہوں نے حال ہی میں 3 ارب امریکی ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا اور چین کی سرمایہ منڈی تک رسائی کے ذریعے پاکستان کی عالمی سرمایہ منڈیوں میں واپسی کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے سی ڈی اے نے آئی-15 میں 36.5 ایکڑ اراضی واگزار کرا لی، 500 پلاٹس کی ترقی کی راہ ہموار کرنے کی طرز پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے معاشی بہتری کے ثمرات کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں جانب سے زراعت، معدنیات و کان کنی اور سرمایہ کاری کی صلاحیت رکھنے والے دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
علاقائی صورتحال اور سٹریٹیجک شراکت داری

ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری تنازعے پر بھی تبادلۂ خیال ہوا، جس میں امن و استحکام کی اہمیت، ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل تعاون اور خطے کے اقتصادی امکانات کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ اس تناظر میں 12 اضلاع چھوڑ کر خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم جیسے داخلی سیاسی معاملات کے بجائے ملکی معیشت پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔ گفتگو میں پاکستان کے اسٹریٹجک جغرافیائی محلِ وقوع اور علاقائی تجارت و راہداری کے مرکز کے طور پر اس کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے ساختی اصلاحات کا عمل جاری رکھنے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مستحکم اور قابلِ پیش گوئی سرمایہ کاری ماحول برقرار رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
اہم سوالات و جوابات
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کن شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا؟
پاکستان اور سعودی عرب نے زراعت، معدنیات و کان کنی اور دیگر سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے معاشی بہتری کے حوالے سے کن اہم کامیابیوں کا ذکر کیا؟
وزیر خزانہ نے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مہنگائی میں کمی اور عالمی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سمیت 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا کا حوالہ دیا۔
