مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 22°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 418,621 PKR Bitcoin $80,004 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 418,621 PKR Bitcoin $80,004
تازہ ترین

مہاجر نشستیں صرف آئینی ترمیم سے تبدیل ہو سکتی ہیں، سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی رائے

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 9 منٹ
مہاجر نشستیں
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا


عدالت نے 12 مہاجر نشستوں کو آئینی تحفظ یافتہ قرار دے دیا، انتخابات مقررہ آئینی مدت میں کرانے کی ذمہ داری ریاست پر عائد

مظفرآباد (دوست نیوز) سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے صدارتی ریفرنس نمبر 01 آف 2026 پر اپنی مشاورتی رائے دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی انتظامی حکم، سیاسی دباؤ، حکومتی فیصلے یا عام قانون سازی کے ذریعے ختم، کم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان نشستوں میں کسی بھی نوعیت کی تبدیلی صرف آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس خالد یوسف چوہدری پر مشتمل بینچ نے صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے آرٹیکل 46-اے کے تحت بھیجے گئے ریفرنس پر مشاورتی رائے جاری کی۔ ریفرنس میں عدالت سے مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت، اسمبلی کے اختیار، احتجاج اور سیاسی دباؤ کے آئینی دائرہ کار، انتخابی عمل اور حکومت کی ذمہ داریوں سے متعلق اہم سوالات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

عدالت نے اپنی رائے میں کہا کہ آرٹیکل 22 کے تحت مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص نشستیں آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ یہ نشستیں کوئی عارضی انتظامی رعایت نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی، قانونی اور آئینی پس منظر رکھتی ہیں۔ عدالت کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان میں آباد کشمیری مہاجرین کی نمائندگی آزاد کشمیر کے انتخابی اور آئینی نظام کا مستقل اور تسلیم شدہ حصہ رہی ہے، اس لیے اسے محض سیاسی مطالبے یا انتظامی فیصلے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آئین میں ترمیم کا راستہ آئین کے اندر ہی موجود ہے۔ اگر کسی آئینی شق میں تبدیلی مطلوب ہو تو اس کے لیے اسمبلی میں باقاعدہ آئینی ترمیم، پارلیمانی بحث، عوامی مینڈیٹ اور آئینی طریقۂ کار ضروری ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئینی انتظامات کو سڑکوں کے دباؤ، احتجاجی الٹی میٹم، دھونس، راستوں کی بندش یا معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر کے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

عدالتی رائے کے مطابق کسی شہری، سیاسی جماعت یا گروہ کو آئینی تبدیلی کا مطالبہ کرنے، اپنی رائے کے اظہار اور پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، مگر یہ حق مطلق نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پرامن اجتماع اور اظہار رائے آئینی حقوق ہیں، لیکن سڑکوں کی بندش، بازاروں کو زبردستی بند کرانا، رابطہ سڑکوں اور مواصلاتی نظام میں رکاوٹ، سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانا، شہریوں کی آمدورفت روکنا، کاروبار زندگی معطل کرنا یا انتخابی عمل میں خلل ڈالنا آئینی تحفظ کے دائرے میں نہیں آتا۔

عدالت نے اس نکتے پر بھی اہم رائے دی کہ حکومت اور ریاستی اداروں پر آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں اور انتخابی عمل کو کسی غیر آئینی دباؤ یا رکاوٹ کا شکار نہ ہونے دیں۔ عدالت کے مطابق احتجاج کا حق اپنی جگہ موجود ہے، مگر کوئی بھی گروہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے عام شہریوں کے حقوق، ریاستی نظام اور آئینی اداروں کے کام کو یرغمال نہیں بنا سکتا۔

سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے انتخابات کے معاملے پر بھی واضح رائے دی کہ آرٹیکل 22(4) کے تحت عام انتخابات کا بروقت انعقاد آئینی تقاضا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے یا تحلیل ہونے کے بعد آئین میں دی گئی مدت کے اندر انتخابات کرانا ایک لازمی آئینی ذمہ داری ہے۔ کسی سیاسی تنازع، احتجاج، دباؤ، انتظامی عذر یا امن و امان کی صورتحال کو انتخابی عمل روکنے، مؤخر کرنے یا غیر معینہ مدت تک تاخیر کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت نے چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام کی ذمہ داریوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آزاد، شفاف اور بروقت انتخابات کا انعقاد ریاستی اداروں کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔ حکومت اور انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ انتخابی عمل کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور ووٹرز کو آزادانہ ماحول فراہم کرنے کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کریں۔

صدارتی ریفرنس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ کیا قانون ساز اسمبلی اپنی مدت کے آخری مرحلے میں آئینی ترمیم کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے اس حوالے سے رائے دی کہ اسمبلی اپنی آئینی مدت کے آخری دن تک قانون سازی اور آئینی ترمیم کا اختیار رکھتی ہے، تاہم موجودہ سیاسی صورتحال اور اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کے مؤقف کے تناظر میں عدالت نے اس پہلو پر مزید تفصیلی رائے دینا ضروری نہیں سمجھا۔

عدالت نے اپنی رائے میں آئین کی بالادستی کو مرکزی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کا آئین ریاستی نظام کا اعلیٰ ترین قانونی دستاویز ہے۔ حکومت، اسمبلی، عدلیہ، انتظامیہ اور عوام سب آئین کے پابند ہیں۔ آئینی طریقۂ کار کو چھوڑ کر کسی بھی قسم کا دباؤ، احتجاجی طاقت یا محاذ آرائی آئینی تبدیلی کا متبادل نہیں بن سکتی۔

عدالتی رائے کے بعد مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو مضبوط آئینی بنیاد مل گئی ہے۔ حکومت کا یہ مؤقف کہ 12 مہاجر نشستوں کو محض انتظامی یا سیاسی فیصلے سے ختم نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ کی مشاورتی رائے کی روشنی میں درست ثابت ہوا ہے۔ اسی طرح عدالت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ آئینی معاملات کا حل منتخب اسمبلی، آئینی ترمیم اور ووٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ سڑکوں کے دباؤ اور تصادم کے ذریعے۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کی یہ رائے آزاد کشمیر کے آئینی نظام، انتخابی عمل اور ریاستی نظم و نسق کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ اس رائے کے بعد ایک جانب مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت مزید واضح ہو گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ریاستی اداروں کے لیے یہ اصول بھی مضبوط ہو گیا ہے کہ احتجاج کے نام پر انتخابی عمل، معمولاتِ زندگی اور امن و امان کو متاثر کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کی مشاورتی رائے نے یہ پیغام دیا ہے کہ آزاد کشمیر میں آئینی تبدیلی کا راستہ صرف آئین کے اندر سے نکلے گا۔ منتخب اسمبلی، عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مقررہ آئینی طریقۂ کار ہی کسی تبدیلی کی قانونی بنیاد بن سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق آئین کسی حکومت سے دباؤ کے تحت چھینی جانے والی رعایت نہیں، بلکہ عوام، ریاست اور اداروں کے درمیان ایک مقدس آئینی عہد ہے جس کا تحفظ ہر ادارے اور ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

خلاصہ
سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے صدارتی ریفرنس پر اپنی مشاورتی رائے میں قرار دیا ہے کہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں صرف آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم کے ذریعے ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے پرامن احتجاج کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سڑکوں کی بندش، بازاروں کی زبردستی بندش، معمولات زندگی میں خلل اور انتخابی عمل میں رکاوٹ آئینی تحفظ نہیں رکھتے۔ عدالت نے حکومت اور الیکشن کمیشن کو مقررہ آئینی مدت میں عام انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے تحفظ کا پابند بھی قرار دیا۔

سپریم کورٹ آزاد کشمیر، مہاجر نشستیں، آزاد کشمیر انتخابات، آئینی ترمیم، آرٹیکل 22، آرٹیکل 33، عوامی ایکشن کمیٹی، کشمیر اسمبلی، صدارتی ریفرنس

مہاجر نشستیں صرف آئینی ترمیم سے تبدیل ہو سکتی ہیں، سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی رائے

dost news exclusive

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں