پاکستان تاجکستان معاشی تعاون: تجارت کا ہدف 20 کروڑ ڈالر مقرر

دوشنبے (دوست نیوز رپورٹ) — پاکستان اور تاجکستان نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے اہم پیشرفت کرتے ہوئے آئندہ تین برسوں میں باہمی تجارتی حجم 20 کروڑ امریکی ڈالر تک بڑھانے کے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔
مشترکہ کمیشن کا اجلاس اور اہم شرکاء
حکومت پاکستان اور جمہوریہ تاجکستان کے درمیان تجارت، اقتصادی اور سائنسی و تکنیکی تعاون سے متعلق مشترکہ کمیشن کا آٹھواں اجلاس تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری اور تاجکستان کے وزیر توانائی و آبی وسائل جمعہ دلیر شفقیر نے کی۔
پاکستانی وفد کی تفصیلات
اجلاس میں پاکستان کی جانب سے وزارتِ اقتصادی امور، وزارتِ تجارت، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارتِ قومی صحت، وزارتِ صنعت و پیداوار، پاور ڈویژن، پٹرولیم ڈویژن، بین الصوبائی رابطہ ڈویژن اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تاجک حکام نے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے توانائی، تجارت، صنعت، صحت، ٹرانسپورٹ و مواصلات، زراعت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، میڈیا، سیاحت، کھیل اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والی تکنیکی سطح کی مفید بات چیت کو سراہا۔ وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے تعمیری گفتگو کو سراہا اور مشترکہ کمیشن میں کیے گئے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
تجارتی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات
پاکستان نے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے فروغ کی اہمیت اجاگر کی۔ دونوں ممالک نے تجارتی وفود کے تبادلوں، کاروباری اداروں کے درمیان ملاقاتوں اور آن لائن تجارتی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔ فریقین نے ٹیرف، ضوابط اور تجارتی مواقع سے متعلق معلومات کے تبادلے کے ساتھ ساتھ آئندہ تین برسوں میں دوطرفہ تجارت کا حجم 20 کروڑ امریکی ڈالر تک بڑھانے کے لیے مشترکہ روڈ میپ تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
اہم معاہدے اور منصوبے
دونوں ممالک نے تاجکستان کی ایکسپورٹ ایجنسی اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو حتمی شکل دیے جانے کا خیرمقدم کیا۔ ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی جلد تکمیل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومتی سطح پر خریداری کے فروغ کے لیے تاجکستان کی ایجنسی برائے اسٹیٹ میٹریل ریزروز اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے درمیان تعاون پر بھی اتفاق ہوا۔ فریقین نے کاسا 1000 منصوبے کے تحت ہونے والی پیشرفت کو سراہتے ہوئے منصوبے کی بروقت تکمیل کی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان اور تاجکستان نے جون 2026 میں استنبول میں ہونے والے کاسا 1000 جوائنٹ ورکنگ گروپ اجلاس میں شرکت اور باقی ماندہ تجارتی و عملی امور کو حتمی شکل دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
توانائی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون
تاجک وزارتِ توانائی و آبی وسائل نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے لیے تاجکستان کے تیل و گیس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ تاجک ماہرین کو پاکستان کے آئل اینڈ گیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے تربیتی مواقع فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
زرعی اور تعلیمی شعبوں میں اشتراک
زرعی شعبے میں دونوں ممالک نے زرعی تجارت بڑھانے، موسمی اور زیادہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی اجناس کے بارے میں معلومات کے تبادلے اور کپاس، گندم، آلو اور سبزیوں کی اعلیٰ پیداوار دینے والی اقسام کی آزمائش و منتقلی میں تعاون پر زور دیا۔ زراعت میں تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ روڈ میپ تیار کرنے اور نباتاتی و ویٹرنری صحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافت میں فروغ
تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔ تاجکستان نے تاجکستان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد کے درمیان انجینئرنگ، آئی ٹی اور آرکیٹیکچر کے شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی۔ آبی وسائل، پن بجلی، ماحولیات اور زراعت میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور سائنسی معلومات و جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ثقافت، سیاحت، نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے شعبوں میں تعاون کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں وزراء نے پائیدار سیاحت کے فروغ پر زور دیا۔
وزیر اعظم تاجکستان سے ملاقات اور مستقبل کے منصوبے
دورے کے دوران وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے تاجکستان کے وزیر اعظم قاہر رسول زادہ سے ملاقات کی اور پاکستانی قیادت کی نیک تمنائیں پہنچائیں۔ وزیر اعظم تاجکستان نے مشترکہ کمیشن کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے وژن نے باہمی تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پہنچا دیا ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی
وفاقی وزیر نے کاسا 1000 منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقین نے پائیدار تجارتی اور رابطہ کاری کے راستوں کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم تاجکستان نے گزشتہ ماہ دوشنبے میں منعقدہ اعلیٰ سطحی واٹر فورم میں پاکستان کی شرکت کو سراہا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کے آغاز اور ویزا سہولتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس موقع پر تجویز دی گئی کہ دوطرفہ تعلقات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیشِ نظر مشترکہ کمیشن کے اجلاس سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ منعقد کیے جائیں۔ دونوں ممالک نے تجارت، زراعت، توانائی، سیاحت اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور مشترکہ کمیشن کے ذریعے جاری پیش رفت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
