صبح و شام سید الاستغفار پڑھنے کی فضیلت

Virtue of Reciting Sayyid al-Istighfār in the Morning and Evening
🍃 عن شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ تَقُولَ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ وَمَنْ قَالَهَا مِنْ النَّهَارِ مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَمَنْ قَالَهَا مِنْ اللَّيْلِ وَهُوَ مُوقِنٌ بِهَا فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. [صحیح البخاری:6306]
🍃 شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سید الاستغفار یہ ہے کہ تم کہو: اَللّٰھُمَّ أَنْتَ رَبِّیْ لَااِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَأَنَا عَبْدُكَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْئُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ وَ أَبُوْئُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ
• اے الله! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تیری پناہ لیتا ہوں ہر برائی سے جو میں نے کی، میں اپنے اوپر تیری عطا کر دہ نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناہ کااعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔
• آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس استغفار پر یقین رکھتے ہوئے دل کی گہرائی سے دن میں اسے پڑھا پھر شام ہونے سے پہلے اسی دن اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے اور جس نے ان کلمات پر یقین رکھتے ہوئے رات میں اسے پڑھا، پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔
🍃 Shaddad ibn Aws (رضی اللہ عنہ) narrated that the Prophet (ﷺ) said:“The chief of supplications for seeking forgiveness (Sayyid al-Istighfār) is that you say:
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
Allāhumma anta rabbī, lā ilāha illā anta, khalaqtanī wa anā ‘abduka, wa anā ‘alā ‘ahdika wa wa‘dika mastata‘tu, a‘ūdhu bika min sharri mā ṣana‘tu, abū’u laka bini‘matika ‘alayya, wa abū’u bidhanbī, faghfir lī, fa innahu lā yaghfirudh-dhunūba illā anta
O Allah! You are my Lord, there is no true deity except You. You created me and I am Your servant, I abide by Your covenant and promise to the best of my ability. I seek refuge with You from the evil of which I have committed. I acknowledge Your blessings upon me and I acknowledge my sin, so forgive me for verily none forgives sins except You. (Once in the morning and evening)
•The Prophet (ﷺ) further said:
Whoever recites this supplication during the day with firm faith and conviction in it, and dies before the evening, will be among the people of Paradise. And whoever recites it during the night with firm faith and conviction in it, and dies before the morning, will be among the people of Paradise
