مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,565 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,565
بزنس

پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم پیش رفت، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی علاقائی اہمیت میں اضافہ

📅 بدھ، 03 جون 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 3 منٹ
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم پیش رفت، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی علاقائی اہمیت میں اضافہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد۔3جون (دوست نیوز):خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور بحری تجارتی راستوں میں درپیش رکاوٹوں کے تناظر میں پاکستان کی بندرگاہیں بین الاقوامی تجارت اور ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں کے لیے اہم متبادل کے طور پر ابھر رہی ہیں، کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جو پاکستان کی بڑھتی علاقائی اہمیت کا مظہر ہے۔بین الاقوامی میڈیا ادارے عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو زکی آمد کا سلسلہ جاری ہے، کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان آنے والا یہ کارگو ملکی بندرگاہوں پر سنبھالا جائے گا جن میں سے دو جہاز پہلے ہی کراچی پہنچ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس کا ٹرمینل تقریباً 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کنٹینرز ہینڈل کرے گا جس کے بعد مارچ 2027 تک مجموعی حجم 14 ہزار 300 کنٹینرز سے تجاوز کر جائے گا۔

یہ پیش رفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی شپنگ کمپنیاں خطے میں درپیش چیلنجز کے باعث پاکستان کی بندرگاہوں کو متبادل اور قابلِ اعتماد تجارتی مراکز کے طور پر اختیار کر رہی ہیں۔میری ٹائم حکام کے مطابق خلیجی بحران کے اثرات کے نتیجے میں نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ، گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں کا تناسب 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو اس کی بڑھتی افادیت اور صلاحیت کا ثبوت ہے۔گوادر پورٹ کو مزید مسابقتی اور پرکشش بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف مراعات بھی متعارف کرائی گئی ہیں، ان میں برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی شامل ہے جس سے سرمایہ کاروں اور شپنگ کمپنیوں کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں کی توسیع اور نئی سرمایہ کاری کے منصوبے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت کو مزید مستحکم کریں گے۔ ان کے مطابق کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان مستقبل میں جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان اہم لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ حب بن سکتا ہے۔ماہرین نے کہا کہ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محل وقوع اسے بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک قدرتی گیٹ وے بناتا ہے، موجودہ علاقائی حالات میں ملکی بندرگاہوں کی بڑھتی اہمیت قومی معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔

ٹیگز: #gawadar #pakistan
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں