مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,073 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,432 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,073 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,432
تازہ ترین

یہ قوم ترقی کیوں نہیں کرتی؟ دس تلخ سچائیاں

📅 منگل، 02 جون 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 6 منٹ
khalid
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا


تحریر: محمد خالد
جب بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا ذکر ہوتا ہے تو ہمارے ذہن میں ایک سوال ضرور ابھرتا ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جس نے ان قوموں کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا دیا جبکہ ہم دہائیوں سے وہیں کھڑے ہیں جہاں شاید ہمیں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، ہماری آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہمارے پاس زرخیز زمینیں، سمندر، معدنیات اور بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں، پھر بھی ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے کیوں ہیں؟
یہ سوال صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ ہم سب سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی تقدیر صرف پارلیمنٹوں میں نہیں لکھی جاتی بلکہ گلیوں، بازاروں، دفاتر، تعلیمی اداروں اور گھروں میں بھی لکھی جاتی ہے۔
پہلا تلخ سچ یہ ہے کہ ہم قانون کا احترام نہیں کرتے۔ سڑک پر سگنل توڑنے والا شخص بھی خود کو قصوروار نہیں سمجھتا۔ ٹیکس چوری کرنے والا اپنے آپ کو ذہین تصور کرتا ہے۔ سرکاری وسائل کو نقصان پہنچانے والا اسے اپنا حق سمجھتا ہے۔ جب قانون صرف کمزور کے لیے رہ جائے تو معاشرہ ترقی نہیں کرتا۔
دوسرا تلخ سچ سفارش اور اقربا پروری ہے۔ قابلیت کو اکثر تعلقات کے سامنے قربان کر دیا جاتا ہے۔ ملازمتوں سے لے کر ٹھیکوں تک، بہت سی جگہوں پر میرٹ کے بجائے تعلقات فیصلہ کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اہل افراد پیچھے رہ جاتے ہیں اور نااہل افراد فیصلے کرنے والی کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔
تیسرا تلخ سچ وقت کی ناقدری ہے۔ ترقی یافتہ قومیں وقت کو دولت سمجھتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں دیر سے آنا معمول اور وقت کی پابندی استثنا بن چکی ہے۔ جو قوم وقت کی قدر نہیں کرتی، وقت بھی اس کی قدر نہیں کرتا۔
چوتھا تلخ سچ تعلیم کا بحران ہے۔ ہم نے تعلیم کو شعور کے بجائے صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ ہمارے نوجوان سالوں تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن عملی زندگی کے تقاضوں سے ناواقف رہتے ہیں۔ کتابی علم اور عملی مہارت کے درمیان موجود خلیج مسلسل بڑھ رہی ہے۔
پانچواں تلخ سچ یہ ہے کہ ہم تنقید تو کرتے ہیں لیکن کردار ادا نہیں کرتے۔ ہر شخص نظام کو برا کہتا ہے مگر جب اپنی باری آتی ہے تو وہی غلطیاں دہرانے لگتا ہے جن پر دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ تبدیلی صرف نعروں سے نہیں بلکہ رویوں سے آتی ہے۔
چھٹا تلخ سچ کرپشن ہے۔ کرپشن صرف اربوں روپے کی نہیں ہوتی بلکہ جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، کام چوری کرنا اور اختیارات کا غلط استعمال بھی کرپشن ہی کی شکلیں ہیں۔ جب بددیانتی معمول بن جائے تو ترقی خواب بن جاتی ہے۔
ساتواں تلخ سچ یہ ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں اختلاف رائے کو طاقت سمجھا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں مختلف سوچ رکھنے والا شخص فوراً مخالف کیمپ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ مکالمے کی جگہ نفرت لے لے تو فکری ترقی رک جاتی ہے۔
آٹھواں تلخ سچ محنت سے فرار ہے۔ ہم کامیابی کی کہانیاں تو پڑھتے ہیں مگر ان کے پیچھے موجود برسوں کی محنت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ دولت، شہرت اور کامیابی ہر کوئی چاہتا ہے لیکن مسلسل جدوجہد کے لیے تیار کم لوگ ہوتے ہیں۔
نواں تلخ سچ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ کبھی حکومت، کبھی ادارے، کبھی عالمی طاقتیں اور کبھی حالات۔ یقیناً بیرونی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں لیکن قومیں اپنی کمزوریوں کا سامنا کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتیں۔
دسواں اور شاید سب سے بڑا تلخ سچ یہ ہے کہ ہم اجتماعی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب ہر شخص صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچنے لگے تو قومی مفاد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب افراد اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اجتماعی بھلائی کے لیے سوچنا شروع کرتے ہیں۔
یہ تمام تلخ حقائق مایوسی کے لیے نہیں بلکہ اصلاح کے لیے ہیں۔ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ملک ہمیشہ کے لیے پسماندہ نہیں رہتا۔ جاپان، جرمنی، جنوبی کوریا اور کئی دوسری قوموں نے تباہی سے ترقی کا سفر طے کیا۔ فرق صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنی کمزوریوں کو تسلیم کیا اور انہیں دور کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان بھی ترقی کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے صرف حکمرانوں کی تبدیلی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں اپنے رویوں، عادات اور ترجیحات کو بھی بدلنا ہوگا۔ جب قانون کا احترام عام ہوگا، میرٹ کو فوقیت ملے گی، تعلیم کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے گی تو ترقی کا راستہ خود بخود کھل جائے گا۔
قوموں کی تقدیر آسمان سے نہیں اترتی، اسے زمین پر رہنے والے لوگ اپنے کردار سے لکھتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کیوں ترقی نہیں کرتا، سوال یہ ہے کہ ہم پاکستان کی ترقی کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
اگر ہم نے اس سوال کا ایمانداری سے جواب تلاش کر لیا تو شاید ہماری منزل زیادہ دور نہیں۔

ٹیگز: #blog #columnist #pakistan
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں