وزیراعظم کی چین اور پاکستان کے زرعی تحقیقی اداروں کے تعاون کو عملی شکل دینے کی ہدایت

اسلام آباد، 1 جون: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور پاک چین مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
پاک چین بی ٹو بی کانفرنس کے فیصلوں کا جائزہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ان کے حالیہ دورہ چین کے دوران منعقدہ پاکستان چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون کے فروغ سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
مفاہمتی یادداشتوں کو مشترکہ منصوبوں میں بدلنے کی ہدایت
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی ٹو بی کانفرنس سے متعلق پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ماہانہ بنیادوں پر اجلاس کی صدارت وہ خود کریں گے۔
انہوں نے خاص طور پر چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی شکل دینے کی ہدایت کی۔
7.54 ارب ڈالر کی مفاہمتی یادداشتیں
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو منعقدہ پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
بریفنگ کے مطابق بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز، مصنوعی ذہانت، موبائل فونز اور ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔
زراعت، فشریز اور فوڈ پروسیسنگ میں تعاون
کھاد، بیج، آبپاشی کے جدید آلات، فشریز اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں وسیع تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ بائیو ٹیکنالوجی اور ویکسین سازی سمیت جدید صنعتی شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے بھی ایم او یوز ہوئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات سے پاکستان کے زرعی اور صنعتی شعبوں میں نئی ٹیکنالوجی آئے گی، برآمدی صلاحیت بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا اور حکام کی شرکت
اجلاس میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
