ایران نے جنگ کے دوران امریکی فوجی مقامات کو اندازوں سے زیادہ نقصان پہنچایا، رپورٹ

لندن، 1 جون: بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے جنگ کے آغاز سے اب تک 20 امریکی فوجی مقامات کو نقصان پہنچایا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور تجزیہ کردہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملے امریکا کی طرف سے عوامی طور پر تسلیم کیے جانے سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر تھے۔
آٹھ ممالک میں تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا
رپورٹ کے مطابق ایران نے فروری کے آخر سے مشرق وسطیٰ کے آٹھ ممالک میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے جدید فضائی دفاعی نظام، ایندھن بھرنے والے طیاروں اور ریڈار سسٹمز کو لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ ایران نے گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران اور لبنان میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں امریکی اڈوں اور مشترکہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس نے آپریشن ایپک فیوری کے آغاز سے اب تک ایران میں 13 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی مؤقف اور تجزیہ کاروں کی رائے
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ اب امریکی اڈوں کے لیے محفوظ جگہ نہیں رہا۔ وائٹ ہاؤس نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوج کا تقریباً صفایا ہو چکا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان ظاہر کرتا ہے کہ تہران کے جوابی حملے پہلے تسلیم کیے گئے اندازوں سے زیادہ درست اور وسیع تھے۔
ایک امریکی دفاعی اہلکار نے آپریشنل سیکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے بی بی سی ویریفائی کے نتائج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے خلا سے تصاویر اور ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے پلینٹ سے ایران اور مشرق وسطیٰ کے بیشتر علاقوں کی نئی تصاویر پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی کی درخواست بھی کی۔
سیٹلائٹ تصاویر سے نقصانات کی نشاندہی
کمپنی کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ تصاویر کو مخالف عناصر اتحادیوں، نیٹو شراکت داروں یا شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہ کریں۔ بی بی سی ویریفائی نے دیگر بین الاقوامی اداروں کی سیٹلائٹ امیجری استعمال کرتے ہوئے ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔ متاثرہ تنصیبات سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عراق، اردن، بحرین اور عمان میں بتائی گئی ہیں۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اصل تعداد زیادہ ہو سکتی ہے اور متاثرہ اڈوں کی تعداد 28 تک جا سکتی ہے۔ تباہ ہونے والے قیمتی ہارڈ ویئر میں متحدہ عرب امارات کے الرویس اور الصدر ایئربیسز، جبکہ اردن کے موفق سالتی ایئربیس پر جدید اینٹی بیلسٹک میزائل بیٹریاں شامل ہیں۔
THAAD بیٹریاں اور طیاروں کو نقصان
امریکا دنیا بھر میں صرف آٹھ ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) بیٹریاں چلانے کے لیے جانا جاتا ہے۔ ہر بیٹری کی تیاری پر تقریباً ایک ارب ڈالر لاگت آتی ہے، جبکہ اسے چلانے کے لیے تقریباً 100 فوجیوں کے عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے فائر کیے جانے والے انٹرسیپٹرز کی قیمت تقریباً 12.7 ملین ڈالر فی راؤنڈ ہے۔
آئرش ڈیفنس فورسز کے سابق سربراہ وائس ایڈمرل مارک میلٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بیٹریاں انتہائی پیچیدہ علاقائی دفاعی نیٹ ورک کا مرکز ہیں، جنہیں جلد یا آسانی سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں نے سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئربیس پر امریکی ایندھن بھرنے اور نگرانی کرنے والے طیارے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے میں تباہ شدہ طیارے اور متاثرہ مقامات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
MAIAR کے تجزیہ کار نے ایک طیارے کی شناخت E-3 سنٹری نگرانی طیارے کے طور پر کی۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس طیارے کو تبدیل کرنے میں 700 ملین ڈالر تک لاگت آ سکتی ہے۔ کویت میں علی السلم ایئربیس اور کیمپ عارفجان کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ایندھن ذخیرہ کرنے والے بنکرز، ہینگرز اور فوجی رہائش گاہوں کو نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی۔
