حکومت مستحق صارفین کو ریلیف کی فراہمی جاری رکھے گی، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری

اسلام آباد، 31 مئی: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بجلی سبسڈی کے خاتمے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مستحق صارفین کو ریلیف کی فراہمی جاری رکھے گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق توانائی شعبے میں اصلاحات، آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی اور تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی کے باعث اربوں روپے کی بچت ہوئی ہے، جس کے مثبت اثرات صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن اور کیو آر کوڈ نظام کے ذریعے سبسڈی کی شفاف اور مؤثر فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاور سیکٹر سے متعلق میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف ایشوز زیر بحث رہے، اس لیے حقائق عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔
پروٹیکٹڈ صارفین اور سبسڈی کا نظام
سردار اویس لغاری نے کہا کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بلوں پر دی جانے والی سبسڈی کی تفصیلات درج کی جا رہی ہیں۔ صارفین سے کہا جا رہا ہے کہ بل ادا کرنے والے فرد کے شناختی کارڈ کو کیو آر کوڈ کے ذریعے میٹر کے ساتھ منسلک کریں۔
ان کے مطابق گزشتہ چار سال میں 200 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ ہو چکی ہے، جبکہ ان صارفین کو سالانہ 527 ارب روپے کی رعایت دی جا رہی ہے۔ اس میں 249 ارب روپے حکومت پاکستان اور 278 ارب روپے دیگر بجلی صارفین برداشت کر رہے ہیں۔
آئی پی پیز، گردشی قرضہ اور پاور سیکٹر اصلاحات
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں 3,500 ارب روپے کی مستقبل کی ادائیگیاں صارفین کے حق میں منتقل کی گئیں۔ بند بجلی گھروں کی غیر ضروری مشینری 47 ارب روپے میں نیلام کی گئی جبکہ ان اداروں کے ملازمین کو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں منتقل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے نقصانات میں ایک سال کے دوران 193 ارب روپے کی کمی لائی گئی اور گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کمی ہوئی۔ ان کے مطابق پاور ڈویژن ماضی میں سالانہ 1,287 ارب روپے بجٹ سپورٹ حاصل کرتا تھا، جو موجودہ مالی سال میں 890 ارب روپے تک محدود رہی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دو سال کے دوران پاور سیکٹر نے قومی خزانے پر بوجھ 457 ارب روپے کم کیا ہے۔
بجلی نرخوں میں کمی کا دعویٰ
سردار اویس لغاری کے مطابق مارچ 2024 میں گھریلو صارفین کے لیے اوسط نرخ 43 روپے 44 پیسے فی یونٹ تھے، جو اب 36 روپے 35 پیسے رہ گئے ہیں۔ صنعتی نرخ 62 روپے 99 پیسے فی یونٹ سے کم ہو کر 42 روپے 40 پیسے فی یونٹ ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراس سبسڈی میں کمی کے باعث صنعتی صارفین کے نرخ کم کیے گئے ہیں، جبکہ قابل تجدید توانائی کے فروغ اور سولر نظام میں سہولتوں کے ذریعے عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
قابل تجدید توانائی اور مستقبل کے منصوبے
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی 2025 میں پیدا ہونے والی 55 فیصد بجلی کلین انرجی پر مشتمل تھی، جبکہ 2035 تک اس تناسب کو 90 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار 2025 میں 2.4 ارب ڈالر تھا، جو 2035 تک کم ہو کر 0.3 ارب ڈالر رہ جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے گزشتہ سال 9 ہزار میگاواٹ کی مجوزہ اضافی بجلی خریداری کے منصوبے ختم کیے، جس سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور صارفین پر سالانہ 400 ارب روپے کے ممکنہ اضافی بوجھ کو روک دیا گیا۔
ان کے مطابق حکومت صرف ان منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے جن پر پہلے سے سرمایہ کاری ہو چکی ہے، جن میں دیامر بھاشا، داسو، مہمند ڈیم اور چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ شامل ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کی ٹرانسمیشن لائن کی لاگت حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ اس کا بوجھ صارفین پر منتقل نہ ہو۔
سولرائزیشن پر حکومتی مؤقف
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت سولرائزیشن کے خلاف نہیں بلکہ اس کے فروغ کی حامی ہے۔ ان کے مطابق نیٹ میٹرنگ اور سولرائزیشن کی پالیسی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے متعارف کرائی تھی اور آج بھی ملک میں سولر توانائی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 50 ہزار میگاواٹ سولر صلاحیت صارفین اپنی سرمایہ کاری سے نصب کر چکے ہیں۔ گلگت بلتستان اور گوادر میں سولرائزیشن منصوبوں پر بھی عملدرآمد جاری ہے، جبکہ 25 کلو واٹ اور اس سے کم کے سولر منصوبوں کے لیے لائسنسنگ شرط ختم کر دی گئی ہے۔
صارفین کی شکایات اور 118 ہیلپ لائن
وفاقی وزیر نے کہا کہ صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے 118 ہیلپ لائن متعارف کرائی گئی ہے اور تمام شکایات کا باقاعدہ ریکارڈ اور مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ گزشتہ سال 23 لاکھ شکایات موصول ہوئی تھیں، جبکہ رواں سال یہ تعداد 61 لاکھ تک پہنچ گئی۔ ان میں سے 46 لاکھ شکایات مقررہ وقت کے اندر حل کی گئیں۔
خصوصی جائزہ: ریلیف کے دعوے اور صارفین کی زمینی حقیقت
خصوصی رپورٹ: دوست نیوز
وفاقی وزیر توانائی کا بیان اپنی جگہ اہم ہے، لیکن بجلی صارفین کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریلیف ان کے ماہانہ بل میں بھی محسوس ہو رہا ہے؟ ملک بھر میں بڑی تعداد میں صارفین بجلی بلوں، ٹیکسز، سرچارجز اور بدلتی پالیسیوں سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور جنوبی پنجاب سمیت کئی علاقوں میں صارفین کا مؤقف ہے کہ بجلی کے بل پہلے ہی گھریلو بجٹ پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ محدود بجلی استعمال کرنے والے اور سولر نہ رکھنے والے گھرانوں کے لیے اضافی چارجز اصل استعمال سے کہیں زیادہ بوجھ بن جاتے ہیں۔
بل ہر ماہ مختلف کیوں آتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں بجلی کے بل صرف یونٹس کی بنیاد پر نہیں بنتے۔ ان میں فیول ایڈجسٹمنٹ، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، فکسڈ چارجز، جی ایس ٹی، ڈیوٹی اور دیگر سرکاری محصولات بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی استعمال کے باوجود صارف کو اگلے مہینے مختلف رقم کا بل موصول ہو سکتا ہے۔
QR کوڈ سسٹم: سہولت یا نیا خدشہ؟
حکومت کی جانب سے بلنگ اور شناختی نظام میں QR کوڈ جیسے نئے طریقہ کار لانے کا مقصد شفافیت بتایا جا رہا ہے۔ تاہم صارفین میں یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ نئی درجہ بندی سے سبسڈی یا رعایت کے معیار مزید سخت ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر کم بجلی استعمال کرنے والے، نان سولر اور کم آمدنی والے گھرانے اس معاملے میں زیادہ حساس ہیں، کیونکہ بل میں معمولی اضافہ بھی ان کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔
دوست نیوز تجزیہ
حکومت کی توانائی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں، مگر ان کی کامیابی کا اصل معیار بیان نہیں بلکہ صارف کے ہاتھ میں آنے والا بل ہے۔ اگر عام آدمی کو ہر ماہ بڑھتی رقم، نئی شرائط اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہتا ہے تو ریلیف کا دعویٰ عملی طور پر کمزور پڑ جاتا ہے۔
اصل سوال اب بھی یہی ہے کہ کیا ایک عام شہری، جو نہ صنعت کار ہے، نہ بڑا کاروباری، اور نہ سولر لگانے کی مالی استطاعت رکھتا ہے، اس کے بجلی بل میں حقیقی آسانی آ رہی ہے یا نہیں؟
