یومِ تکبیر 28 مئی: پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا؟ ڈاکٹر عبد القدیر خان، سائنس دانوں، وزرائے اعظم اور چاغی کی تاریخی کہانی

یومِ تکبیر: چاغی کے پہاڑوں سے قومی خودمختاری تک پاکستان کے ایٹمی سفر کی مکمل داستان
چاغی کی خاموش پہاڑیاں اور ایک قوم کی بلند آواز
دوست نیوز سپیشل رپورٹ
28 مئی 1998 کی سہ پہر پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک دن نہیں، ایک قومی اعلان تھا۔ بلوچستان کے خشک، خاموش اور سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں جب زمین کے اندر چھپی ہوئی طاقت نے اپنا وجود ظاہر کیا تو چاغی کے پہاڑوں کا رنگ بدل گیا، مگر اصل تبدیلی پاکستان کے قومی اعتماد میں آئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک ملک، جس نے تقسیم، جنگوں، پابندیوں، معاشی کمزوریوں، عالمی دباؤ اور داخلی مشکلات کا طویل سفر دیکھا تھا، دنیا کے سامنے کھڑا ہو کر یہ کہہ رہا تھا کہ اس کی آزادی، خودمختاری اور دفاع پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
یومِ تکبیر کا مطلب صرف ایٹمی دھماکہ نہیں۔ یہ ایک قوم کے ارادے، سائنس دانوں کی محنت، سیاسی قیادت کے فیصلے، عسکری اداروں کی منصوبہ بندی، انجینئروں کی خاموش ریاضت اور عوام کی قربانیوں کا نام ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں؛ قومیں تب بنتی ہیں جب وہ مشکل وقت میں صبر، علم، تنظیم، راز داری، قربانی اور فیصلہ کرنے کی طاقت دکھاتی ہیں۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو سمجھنے کے لیےیومِ تکبیر 28 مئی 28 مئی 1998 سے بہت پیچھے جانا پڑتا ہے۔ یہ کہانی کسی ایک دن، کسی ایک شخصیت یا کسی ایک ادارے کی نہیں۔ یہ کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا سفر ہے جس میں سیاست بھی ہے، سائنس بھی، سفارت کاری بھی، خوف بھی، امید بھی، پابندیاں بھی، اور سب سے بڑھ کر قومی بقا کا احساس بھی۔
ابتدا: پُرامن ایٹمی تحقیق سے دفاعی ضرورت تک
پاکستان کا ایٹمی سفر ابتدا میں دفاعی نہیں بلکہ سائنسی اور پُرامن مقاصد کے ساتھ شروع ہوا۔ 1950 کی دہائی میں دنیا میں “Atoms for Peace” کا تصور ابھر رہا تھا۔ ایٹمی توانائی کو بجلی، تحقیق، زراعت، طب اور صنعت کے لیے استعمال کرنے کی بات کی جا رہی تھی۔ اسی ماحول میں پاکستان نے بھی ایٹمی سائنس کی طرف قدم بڑھایا۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن یعنی PAEC کا قیام اسی سوچ کا حصہ تھا کہ ملک کو جدید سائنسی دور سے الگ نہیں رہنا چاہیے۔
ابتدائی برسوں میں پاکستان کا ایٹمی کام تحقیق، تربیت اور توانائی کے امکانات تک محدود تھا۔ کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ، ریسرچ ری ایکٹرز، طبی استعمال اور سائنسی اداروں کی تشکیل اس بات کی علامت تھی کہ پاکستان ایٹمی سائنس کو صرف طاقت کے ہتھیار کے طور پر نہیں بلکہ ترقی کے ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا تھا۔ لیکن خطے کی سیاست نے اس پُرامن سفر کو ایک سخت دفاعی حقیقت سے جوڑ دیا۔
1965 کی جنگ، پھر 1971 کا سانحہ، مشرقی پاکستان کی علیحدگی، اور خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری برتری نے پاکستان کے فیصلہ سازوں کو یہ احساس دلایا کہ روایتی دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ایک بڑی اسٹریٹجک ضمانت بھی ضروری ہے۔ 1971 کے بعد پاکستان کی قومی نفسیات میں ایک گہرا زخم تھا۔ یہ زخم صرف جغرافیائی نہیں تھا؛ یہ سلامتی، شناخت اور مستقبل کا سوال تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو: سیاسی عزم کی بنیاد
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے دفاعی رخ کو مضبوط بنیاد دینے میں ذوالفقار علی بھٹو کا کردار بنیادی سمجھا جاتا ہے۔ 1972 کے بعد، جب پاکستان شکست اور تقسیم کے صدمے سے گزر رہا تھا، بھٹو نے یہ سمجھ لیا تھا کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن صرف روایتی فوجی ذرائع سے برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے پاکستان کے سائنس دانوں کو جمع کیا، اداروں کو سمت دی، اور ایک قومی منصوبے کی بنیاد رکھی جس کا مقصد پاکستان کو ایک ایسی دفاعی صلاحیت دینا تھا جو کسی بھی بڑے حملے یا دباؤ کے مقابلے میں رکاوٹ بن سکے۔
بھٹو کا کردار سائنسی نہیں تھا، مگر سیاسی قیادت کا اصل امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ قومی خطرات کو وقت سے پہلے پہچانے۔ انہوں نے PAEC کو مضبوط کیا، منیر احمد خان جیسے تجربہ کار سائنس دانوں کو اہم ذمہ داریاں دیں، اور ملک میں وہ ماحول پیدا کیا جس میں ایٹمی تحقیق کو قومی ترجیح سمجھا جانے لگا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کے پاس وسائل کم تھے، ٹیکنالوجی محدود تھی، عالمی اعتماد کمزور تھا، اور مخالف قوتیں ہر قدم پر رکاوٹ بن سکتی تھیں۔ مگر اسی دور میں وہ بیج بویا گیا جس کا پھل 1998 میں پوری قوم نے دیکھا۔
بھارت کا 1974 کا تجربہ اور پاکستان کی سمت کا بدلنا
1974 میں بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا، جسے اس نے “پُرامن ایٹمی دھماکہ” کہا۔ مگر پاکستان کے لیے یہ ایک واضح پیغام تھا کہ خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ بھارت پہلے ہی رقبے، آبادی، معیشت اور روایتی فوجی قوت میں پاکستان سے بڑا تھا۔ اگر اس کے پاس ایٹمی صلاحیت بھی عملی طور پر آ جاتی تو پاکستان کے لیے دفاعی توازن مزید مشکل ہو جاتا۔
یہی وہ وقت تھا جب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی رفتار اور نوعیت میں تبدیلی آئی۔ اب معاملہ صرف تحقیق یا بجلی کا نہیں رہا تھا۔ اب سوال قومی سلامتی کا تھا۔ اسی پس منظر میں ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان کے ایٹمی سفر میں ایک فیصلہ کن کردار کے ساتھ سامنے آئے۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان: علم، عزم اور قومی اعتماد کی علامت
ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام پاکستان کے عوامی شعور میں “محسنِ پاکستان” کے طور پر ثبت ہے۔ وہ 1936 میں بھوپال میں پیدا ہوئے، بعد میں پاکستان آئے، کراچی میں تعلیم حاصل کی، پھر یورپ گئے جہاں انہوں نے میٹالرجی اور انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کی اصل مہارت یورینیم افزودگی، سینٹری فیوج ٹیکنالوجی اور میٹالرجیکل انجینئرنگ کے شعبے میں تھی۔
بھارت کے 1974 کے ایٹمی تجربے کے بعد ڈاکٹر عبد القدیر خان نے پاکستان کی قیادت کو اپنی خدمات پیش کیں۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ایٹمی ہتھیار کے لیے درکار فِسائل مواد کیسے حاصل کیا جائے۔ دنیا کے طاقت ور ممالک اس طرح کی ٹیکنالوجی تک رسائی کو سختی سے کنٹرول کرتے تھے۔ اس ماحول میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی مہارت نے پاکستان کو یورینیم افزودگی کے راستے پر آگے بڑھنے کا عملی امکان دیا۔
کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز، جو بعد میں ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز کے نام سے بھی جانی گئیں، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سب سے اہم علامتوں میں سے ایک بن گئیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے وہاں ایک ایسی ٹیم تیار کی جس نے انتہائی مشکل حالات میں سینٹری فیوج ٹیکنالوجی، افزودہ یورینیم کی تیاری، مشینری، پرزوں، ڈیزائن اور انجینئرنگ کے میدان میں غیر معمولی کام کیا۔ پاکستان کے پاس نہ بے پناہ سرمایہ تھا، نہ آزادانہ عالمی مارکیٹ تک رسائی، نہ بڑے صنعتی وسائل۔ مگر ڈاکٹر خان اور ان کی ٹیم نے ایک ایسا راستہ بنایا جس نے پاکستان کے دفاعی توازن کو بدل دیا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان کے کردار کو بیان کرتے ہوئے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا مرکزی عوامی چہرہ اور یورینیم افزودگی کے میدان کا معمار کہا جائے۔ وہ اکیلے نہیں تھے، مگر ان کا کردار غیر معمولی تھا۔ انہوں نے پاکستان کو ایک ایسی ٹیکنالوجیکل بنیاد دی جس کے بغیر دفاعی ایٹمی صلاحیت کا سفر بہت زیادہ مشکل ہو سکتا تھا۔ ان کی خدمات قومی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہیں گی۔
منیر احمد خان اور PAEC: خاموش مگر گہری بنیاد
ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ ساتھ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور اس کے سربراہ منیر احمد خان کا کردار بھی نہایت اہم تھا۔ منیر احمد خان ایک منظم، خاموش اور ادارہ ساز سائنس دان تھے۔ انہوں نے PAEC کے تحت تحقیق، ڈیزائن، ری ایکٹر ٹیکنالوجی، پلوٹونیم راستے، تربیت، تکنیکی گروپس اور قومی سائنسی ڈھانچے کو مضبوط کیا۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف یورینیم افزودگی تک محدود نہیں تھا؛ اس میں فزکس، انجینئرنگ، دھماکہ خیز مواد، ریاضیاتی حسابات، نیوکلیئر ڈیزائن، حفاظتی نظام، تجرباتی مقامات، تشخیصی آلات اور کمانڈ اینڈ کنٹرول جیسے کئی میدان شامل تھے۔
PAEC نے وہ سائنسی ماحول پیدا کیا جس میں نظریاتی فزکس، انجینئرنگ ڈیزائن، کولڈ ٹیسٹس، تجرباتی تیاری اور پُرامن ایٹمی استعمال کے شعبے آگے بڑھے۔ ڈاکٹر ریا ض الدین، ڈاکٹر مسعود احمد، ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر ثمر مبارک مند، حفیظ قریشی اور کئی ایسے سائنس دان اور انجینئرز اس سفر کا حصہ رہے جن کے نام عام عوام تک کم پہنچے، مگر جن کی محنت کے بغیر چاغی ممکن نہیں تھا۔
یہاں ایک بات بہت اہم ہے: قومی منصوبے کبھی ایک فرد سے مکمل نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے یورینیم افزودگی کے میدان میں تاریخی کردار ادا کیا، PAEC نے ڈیزائن، تجرباتی تیاری، سائنسی ادارہ سازی اور پُرامن ایٹمی شعبوں میں بنیاد رکھی، اور ریاستی اداروں نے اسے قومی سلامتی کے ایک مربوط نظام میں تبدیل کیا۔ یہی اجتماعی کردار پاکستان کی اصل طاقت تھا۔
جنرل ضیاء الحق کا دور: راز داری، تسلسل اور عالمی دباؤ
1977 کے بعد جنرل ضیاء الحق کا دور آیا۔ یہ دور سیاسی طور پر متنازع، مگر ایٹمی پروگرام کے حوالے سے تسلسل کا دور تھا۔ اس زمانے میں پاکستان پر عالمی نگرانی بڑھتی گئی۔ امریکہ اور مغربی ممالک کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر تشویش تھی۔ مختلف پابندیاں، سفارتی دباؤ، ٹیکنالوجی کی بندش اور عالمی عدم اعتماد پاکستان کے راستے میں رکاوٹ بنتے رہے۔
مگر اسی دور میں پروگرام خاموشی سے آگے بڑھتا رہا۔ کہوٹہ مضبوط ہوا، PAEC کے مختلف منصوبے جاری رہے، اور عسکری و سول اداروں نے قومی سلامتی کے اس منصوبے کو ترجیح دی۔ ضیاء دور میں افغانستان کی جنگ کی وجہ سے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ اس جغرافیائی اہمیت نے بعض عالمی دباؤ کو وقتی طور پر نرم کیا، مگر ایٹمی پروگرام پر شک، نگرانی اور پابندیوں کا خطرہ برقرار رہا۔
یہ دور ایک بڑے سبق کی علامت ہے: بعض قومی منصوبے روزمرہ سیاست سے اوپر اٹھ کر تسلسل چاہتے ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہیں، مگر ایٹمی پروگرام جاری رہا۔ یہی تسلسل بعد میں پاکستان کی کامیابی کا سبب بنا۔
غلام اسحاق خان، بیوروکریسی اور ادارہ جاتی تسلسل
پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں صرف وزرائے اعظم یا سائنس دان ہی نہیں، بلکہ اعلیٰ بیوروکریسی، مالیاتی منتظمین اور ریاستی اداروں کا بھی کردار تھا۔ غلام اسحاق خان کا نام اس حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے مختلف ادوار میں مالی، انتظامی اور ریاستی سطح پر ایٹمی منصوبے کے تحفظ اور تسلسل میں کردار ادا کیا۔ ایسے منصوبوں کو صرف سائنسی ذہانت نہیں بلکہ مسلسل فنڈنگ، انتظامی راز داری، درآمدی مشکلات کے حل، اداروں کے درمیان رابطے اور سیاسی تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ ایک غیر معمولی چیلنج تھا کہ وہ عالمی پابندیوں اور ٹیکنالوجی کنٹرول کے باوجود ایک پیچیدہ ترین دفاعی پروگرام کو آگے بڑھائے۔ یہ کام صرف لیبارٹری میں نہیں ہوتا؛ اس کے پیچھے وزارتیں، مالیاتی ادارے، سکیورٹی ادارے، سفارت کار، انجینئرز، ٹیکنیشنز اور ہزاروں گمنام کارکن ہوتے ہیں۔
بے نظیر بھٹو کے ادوار: دباؤ، سفارت کاری اور تسلسل
1988 کے بعد جمہوری دور واپس آیا اور بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیر اعظم بنیں۔ ان کے ادوار میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام عالمی سطح پر مسلسل زیر بحث رہا۔ امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے عدم پھیلاؤ کے مطالبات، امداد اور پابندیوں کے سوالات، اور خطے کی کشیدگی ہر وقت موجود تھے۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں پروگرام کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ ریاستی تسلسل کے تحت محفوظ رکھا گیا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اس وقت تک ایک ریاستی راز اور قومی سلامتی کا معاملہ بن چکا تھا۔ اس پر ہر سیاسی حکومت کا اختیار مکمل طور پر یکساں نہیں تھا، مگر ہر حکومت کو اس حقیقت کا سامنا تھا کہ بھارت کے ساتھ طاقت کا توازن پاکستان کی سلامتی کا مرکزی سوال ہے۔ بے نظیر بھٹو نے عالمی دباؤ کے باوجود پاکستان کے دفاعی مفاد کو نظر انداز نہیں کیا۔ ان کے دور میں سفارت کاری، دفاعی پالیسی اور پروگرام کے تسلسل کا عمل جاری رہا۔
نواز شریف اور فیصلہ کن لمحہ: مئی 1998
1997 میں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بنے۔ اگلے ہی سال مئی 1998 میں بھارت نے پوکھران میں ایٹمی تجربات کیے۔ بھارت کے ان تجربات نے جنوبی ایشیا کی سلامتی کا ماحول یکدم بدل دیا۔ پاکستان کے سامنے اب ایک تاریخی فیصلہ تھا: کیا وہ خاموش رہے، عالمی امداد اور پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرے، یا اپنی صلاحیت کا اعلان کر کے خطے میں توازن بحال کرے؟
یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ پاکستان کی معیشت کمزور تھی۔ عالمی مالیاتی اداروں، امریکہ، جاپان اور دیگر ممالک کی طرف سے پابندیوں کا خطرہ واضح تھا۔ عالمی رہنما پاکستان پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ جواب نہ دے۔ کچھ حلقے کہہ رہے تھے کہ پاکستان کو اپنی صلاحیت کو خفیہ رکھنا چاہیے، تجربہ نہیں کرنا چاہیے۔ دوسری طرف عوامی دباؤ، قومی وقار، دفاعی ضرورت اور بھارت کے اعلان شدہ ایٹمی موقف نے پاکستان کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں خاموشی کو کمزوری سمجھا جا سکتا تھا۔
نواز شریف حکومت نے بالآخر تجربات کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ سیاسی طور پر بہت بڑا، معاشی طور پر خطرناک، مگر دفاعی اعتبار سے پاکستان کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ 28 مئی 1998 کو چاغی کے مقام پر پاکستان نے پانچ ایٹمی تجربات کیے۔ دو دن بعد 30 مئی کو ایک مزید تجربہ کیا گیا۔ اس طرح پاکستان نے اپنی ایٹمی صلاحیت کو دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا۔
چاغی: سائنس، انجینئرنگ اور راز داری کا کمال
چاغی کے تجربات صرف بٹن دبانے کا نام نہیں تھے۔ ان کے پیچھے کئی سالوں کی تیاری تھی۔ تجرباتی مقام کا انتخاب، پہاڑوں کے اندر سرنگوں کی تیاری، آلات کی تنصیب، حفاظتی انتظامات، تشخیصی نظام، دھماکے کے اثرات کا حساب، ڈیٹا ریکارڈنگ، مواد کی محفوظ منتقلی، اور آخری لمحے تک راز داری—یہ سب ایک غیر معمولی انجینئرنگ اور سکیورٹی آپریشن تھا۔
PAEC، KRL، پاکستان آرمی کور آف انجینئرز، سکیورٹی اداروں، سائنس دانوں اور ٹیکنیشنز نے مل کر یہ کام کیا۔ ڈاکٹر اشفاق احمد اس وقت PAEC کے چیئرمین تھے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ان کی ٹیم تجرباتی تیاریوں میں نمایاں کردار کے ساتھ سامنے آئے۔ KRL کی طرف سے ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کی ٹیم کی فراہم کردہ افزودگی کی صلاحیت پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام کی بنیاد تھی۔ PAEC کے نظریاتی اور تجرباتی گروپس نے ڈیزائن، حسابات اور ٹیسٹ کی تیاری میں اپنا کردار ادا کیا۔
چاغی میں ہونے والے تجربات کے اعدادوشمار پر مختلف عالمی ذرائع میں اختلاف موجود ہے۔ پاکستان کے سرکاری بیانیے کے مطابق 28 مئی کو پانچ کامیاب تجربات کیے گئے، جبکہ 30 مئی کو چھٹا تجربہ ہوا۔ مختلف آزاد ماہرین yield یعنی دھماکوں کی طاقت کے بارے میں مختلف اندازے دیتے ہیں۔ چونکہ ایٹمی پروگرام حساس اور جزوی طور پر خفیہ نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے ہر تکنیکی تفصیل عام طور پر مکمل طور پر دستیاب نہیں ہوتی۔ مگر تاریخی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے مئی 1998 میں اپنی ایٹمی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا اور عالمی سطح پر ایک ایٹمی ریاست کے طور پر سامنے آیا۔
مشکلات: پابندیاں، تنہائی اور معاشی دباؤ
ایٹمی تجربات کے فوراً بعد پاکستان کو عالمی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت اور پاکستان دونوں کے تجربات پر قرارداد منظور کی۔ امریکہ اور کئی ممالک نے پابندیاں لگائیں۔ مالیاتی دباؤ بڑھا۔ سرمایہ کاری، قرضوں، امداد اور بیرونی تعاون پر اثر پڑا۔ پاکستان پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار تھا، اس لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔
لیکن پاکستان کے لیے سوال صرف معیشت کا نہیں تھا۔ سوال یہ تھا کہ اگر خطے میں ایک بڑا ہمسایہ ایٹمی طاقت کا اعلان کر چکا ہے تو پاکستان اپنی سلامتی کی ضمانت کیسے دے؟ پاکستان نے یہ قیمت ادا کی۔ عوام نے مشکلات برداشت کیں۔ ریاست نے دباؤ جھیلا۔ اور سائنس دانوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ محدود وسائل کے باوجود علم، عزم اور قومی ضرورت مل کر ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔
پاکستان نے کیا حاصل کیا؟
پاکستان کے ایٹمی تجربات کا سب سے بڑا نتیجہ “قابلِ اعتماد دفاعی مزاحمت” تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا، بلکہ یہ کہ کسی بھی بڑے حملے کی قیمت بہت زیادہ ہو گئی۔ ایٹمی صلاحیت نے پاکستان کو اسٹریٹجک توازن دیا۔ بھارت کے ساتھ طاقت کا فرق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، مگر پاکستان کے پاس ایک ایسی آخری دفاعی ضمانت آ گئی جس نے بڑے پیمانے کی جنگ کے امکانات کو محدود کیا۔
دوسرا فائدہ قومی اعتماد تھا۔ 28 مئی نے پاکستانی قوم کو یہ احساس دیا کہ وسائل کی کمی کے باوجود پاکستان اعلیٰ ترین سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھ سکتا ہے۔ یہ صرف دفاعی کامیابی نہیں تھی؛ یہ ذہنی غلامی کے خلاف ایک اعلان بھی تھا۔ قوم نے دیکھا کہ اس کے سائنس دان، انجینئر، فوجی، ٹیکنیشنز اور ادارے دنیا کے مشکل ترین منصوبوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
تیسرا فائدہ سفارتی تھا۔ ایٹمی صلاحیت کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نئی سنجیدگی سے دیکھا جانے لگا۔ اگرچہ عدم پھیلاؤ کے حوالے سے تنقید بھی ہوئی، مگر یہ حقیقت بھی تسلیم کی گئی کہ جنوبی ایشیا کا کوئی بھی سکیورٹی انتظام پاکستان کو نظر انداز کر کے نہیں بن سکتا۔ پاکستان خطے کے اسٹریٹجک توازن کا مستقل عنصر بن گیا۔
چوتھا فائدہ دفاعی خود انحصاری کا جذبہ تھا۔ ایٹمی پروگرام نے میزائل پروگرام، انجینئرنگ، میٹالرجی، فزکس، کمپیوٹیشن، سکیورٹی سسٹمز، کمانڈ اینڈ کنٹرول، اور حساس ٹیکنالوجیز میں مقامی صلاحیت کو فروغ دیا۔ اس سے ایک سائنسی اور تکنیکی انسانی سرمایہ پیدا ہوا جس کا اثر صرف دفاع تک محدود نہیں رہا۔
پُرامن فوائد: توانائی، صحت، زراعت اور تحقیق
پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف دفاعی پہلو نہیں رکھتا۔ ایٹمی سائنس کے پُرامن استعمال آج بھی ملک کے لیے اہم ہیں۔ پاکستان میں نیوکلیئر پاور پلانٹس قومی بجلی نظام کا حصہ ہیں۔ چاشمہ اور کراچی کے نیوکلیئر پاور پلانٹس بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ K-2 اور K-3 جیسے جدید یونٹس پاکستان کی توانائی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ توانائی کے بحران سے گزرنے والے ملک کے لیے صاف، مسلسل اور بڑے پیمانے کی بجلی ایک اہم ضرورت ہے۔
صحت کے شعبے میں PAEC کے اٹامک انرجی کینسر ہسپتال ملک کے مختلف حصوں میں مریضوں کو تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ نیوکلیئر میڈیسن، ریڈیوتھراپی، ریڈیالوجی اور آنکولوجی جیسے شعبوں میں پاکستان نے قابل ذکر صلاحیت پیدا کی ہے۔ یہ وہ فائدہ ہے جو عام شہری کی زندگی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ ایٹمی سائنس یہاں ہتھیار نہیں، علاج بن جاتی ہے۔
زراعت میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے ذریعے فصلوں کی بہتر اقسام، بیماریوں کے خلاف مزاحمت، خوراک کی حفاظت اور تحقیق کے کام کیے جاتے ہیں۔ صنعت میں ریڈی ایشن ٹیکنالوجی، نان ڈسٹرکٹو ٹیسٹنگ اور مختلف تکنیکی شعبوں میں ایٹمی علم استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح یومِ تکبیر کا حقیقی پیغام صرف دفاع نہیں بلکہ علم، ترقی، خود انحصاری اور ذمہ دار سائنس بھی ہے۔
ذمہ داری: ایٹمی طاقت ہونا صرف فخر نہیں، امانت بھی ہے
ایٹمی طاقت ہونا بہت بڑا فخر ہے، مگر اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ ایٹمی صلاحیت کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ جنگ کو روکنا ہے۔ پاکستان کا سرکاری موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اس کی ایٹمی صلاحیت دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد جارحیت روکنا، خودمختاری کا تحفظ کرنا اور خطے میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
آج دنیا میں ایٹمی خطرات پھر بڑھ رہے ہیں۔ بڑی طاقتیں اپنے ہتھیار جدید بنا رہی ہیں، ہتھیاروں کے کنٹرول کے معاہدے کمزور ہو رہے ہیں، اور خطے کشیدگی کا شکار ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کو محفوظ، ذمہ دار، منظم اور عالمی معیار کے مطابق رکھے۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول، نیوکلیئر سکیورٹی، ایکسپورٹ کنٹرول، تربیت، اور حادثات سے بچاؤ کے نظام اس ذمہ داری کا حصہ ہیں۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان کا مقام اور قومی یادداشت
ڈاکٹر عبد القدیر خان کی زندگی کا عالمی سطح پر ایک پیچیدہ پہلو بھی زیر بحث رہا، خاص طور پر بعد کے برسوں میں پھیلاؤ سے متعلق تنازعات کے حوالے سے۔ لیکن پاکستان کی قومی تاریخ میں ان کا بنیادی مقام اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ایک کمزور، دباؤ کا شکار، وسائل سے محروم ملک کو یورینیم افزودگی کی وہ صلاحیت دینے میں مرکزی کردار ادا کیا جس نے پاکستان کی دفاعی تاریخ بدل دی۔ قومیں اپنے محسنوں کو ان کے اصل تاریخی کردار کے حوالے سے یاد رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر خان کا اصل تاریخی کردار یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان کے سائنسی دفاعی سفر کو عملی بنیاد دی، ٹیمیں بنائیں، ادارہ مضبوط کیا، اور قوم کو یہ اعتماد دیا کہ علم کے میدان میں کوئی دروازہ ہمیشہ بند نہیں رہتا۔
ان کے ساتھ ساتھ ہمیں ان گمنام سائنس دانوں، انجینئروں، مزدوروں، سکیورٹی اہلکاروں، ٹیکنیشنز اور اہلکاروں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جن کے نام شاید کتابوں میں نمایاں نہیں، مگر جن کی محنت چاغی کے پہاڑوں میں شامل ہے۔ یومِ تکبیر صرف ایک شخصیت کا دن نہیں؛ یہ اجتماعی قومی محنت کا دن ہے۔
آج کا سبق: دفاعی طاقت سے معاشی طاقت تک
یومِ تکبیر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دفاعی طاقت ضروری ہے، مگر قوم کی مکمل کامیابی معاشی، علمی اور اخلاقی طاقت کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر کے اپنی سلامتی کے ایک بڑے خلا کو پُر کیا۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ اسی جذبے کو معیشت، تعلیم، صنعت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، زراعت، برآمدات اور حکمرانی کے شعبوں میں بھی استعمال کیا جائے۔
جس قوم نے پابندیوں، دباؤ اور وسائل کی کمی کے باوجود چاغی تک کا سفر مکمل کیا، وہ اگر علم، محنت اور دیانت کے ساتھ معیشت پر توجہ دے تو بہت کچھ کر سکتی ہے۔ یومِ تکبیر کا نعرہ صرف ماضی کا فخر نہیں ہونا چاہیے؛ یہ مستقبل کی ذمہ داری بھی ہونا چاہیے۔ اگر دفاعی خودمختاری ممکن ہوئی تو معاشی خودمختاری بھی ممکن ہے۔ اگر سائنس دانوں نے پہاڑوں کے اندر تاریخ لکھ دی تو آج کے نوجوان لیبارٹریز، جامعات، اسٹارٹ اپس، میڈیا، زراعت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور صنعت میں نئی تاریخ لکھ سکتے ہیں۔
اختتامیہ: چاغی سے آگے کا پاکستان
28 مئی 1998 کو پاکستان نے دنیا کو بتایا کہ وہ اپنی سلامتی کے سوال پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر تاریخ میں بعض فیصلے آسان نہیں، ضروری ہوتے ہیں۔ چاغی کے پہاڑوں نے اس دن صرف دھماکے کی گونج نہیں سنی؛ انہوں نے ایک قوم کا عزم سنا۔
یومِ تکبیر ہمیں فخر دیتا ہے، مگر فخر کے ساتھ احتساب بھی دیتا ہے۔ یہ دن پوچھتا ہے کہ جس قوم نے ایٹمی طاقت بننے کا خواب پورا کیا، کیا وہ تعلیم، صحت، انصاف، معیشت اور ٹیکنالوجی میں بھی ویسی ہی قومی یکسوئی دکھا سکتی ہے؟ کیا ہم اپنے سائنس دانوں کی عزت صرف تقریروں میں کریں گے یا نئی نسل کو تحقیق، ایجاد اور علم کی طرف بھی لے جائیں گے؟ کیا ہم دفاعی طاقت کے ساتھ معاشی طاقت بھی بنیں گے؟
پاکستان نے یومِ تکبیر سے اپنی دفاعی تاریخ کا ایک سنہری باب لکھا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی قومی جذبے سے پاکستان اپنی معاشی، علمی اور سماجی تاریخ کا نیا باب لکھے۔ چاغی نے ثابت کیا تھا کہ جب قوم فیصلہ کر لے تو پہاڑ بھی گواہی دیتے ہیں۔ آج بھی پاکستان کو اسی فیصلے، اسی اتحاد اور اسی علم کی ضرورت ہے۔
یومِ تکبیر پاکستان کے دفاع کا دن ہے، سائنس دانوں کے احترام کا دن ہے، سیاسی فیصلے کی جرأت کا دن ہے، عوامی قربانی کا دن ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ یاد دہانی ہے کہ آزادی کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں ہوتی؛ آزادی کی حفاظت علم، معیشت، اخلاق، اتحاد اور خود انحصاری سے بھی ہوتی ہے۔
پاکستان زندہ باد۔
یومِ تکبیر، پاکستان ایٹمی طاقت، چاغی، ڈاکٹر عبد القدیر خان، ایٹمی تجربات، 28 مئی 1998، پاکستان دفاع، PAEC، KRL، نواز شریف، ذوالفقار علی بھٹو، پاکستان نیوکلیئر پروگرام، قومی سلامتی، جنوبی ایشیا، دفاعی توازن



