مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
اتوار، 25 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,721 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,721
دین

آسمانِ دنیا پر رحمت کی برسات: یومِ عرفہ 9 ذی الحجّہ کی فضیلت اور حقیقت

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 8 منٹ
یومِ عرفہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تحریر: خصوصی فیچر رپورٹ (اسلامی امور)

سال کے 365 دنوں میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جنہیں خالقِ کائنات نے باقی تمام دنوں پر فضیلت اور عظمت بخشی ہے۔ انہی میں سے ایک دن ‘یومِ عرفہ’ ہے، جو ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو، یعنی عید الاضحیٰ (بقرعید) سے ٹھیک ایک دن پہلے آتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جسے اسلام میں سال کا سب سے بہترین اور مقدس ترین دن قرار دیا گیا ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان جب مکہ مکرمہ سے چند کلومیٹر دور ‘میدانِ عرفات’ میں جمع ہوتے ہیں، تو یہ منظر زمین پر انسانی برابری، بندگی اور مغفرت کا سب سے بڑا گواہ بن جاتا ہے۔

مگر یومِ عرفہ اور میدانِ عرفات کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس کا نام ‘عرفات’ کیوں پڑا اور اس دن کی اتنی بڑی فضیلت کیوں ہے؟ آئیے تاریخ، قرآن اور احادیث کی روشنی میں اس عظیم دن کا احاطہ کرتے ہیں۔


‘عرفات’ نام کیوں پڑا؟ تاریخی پس منظر

لفظ ‘عرفات’ عربی زبان کے لفظ ‘عرف’ سے نکلا ہے، جس کے معنی "پہچاننے” یا "جاننے” کے ہیں۔ تاریخ اور اسلامی روایات میں اس نام کی چند بہت خوبصورت وجوہات بیان کی گئی ہیں:

  • حضرت آدم اور بی بی حوا کی ملاقات: سب سے مشہور روایت یہ ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کو جنت سے زمین پر اتارا گیا، تو وہ ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے۔ انہوں نے طویل عرصے تک ایک دوسرے کو تلاش کیا۔ بالاآخر، ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو اسی میدان میں دونوں کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے ایک دوسرے کو "پہچان” لیا، اسی مناسبت سے اس جگہ کو ‘عرفات’ کہا گیا۔
  • جبرائیل علیہ السلام کی رہنمائی: ایک اور روایت کے مطابق، جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مناسکِ حج (حج کے طریقے) سکھائے اور اس میدان میں پہنچے تو پوچھا: "اَعَرَفْتَ؟” (کیا آپ نے جان لیا؟) تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: "عَرَفْتُ” (جی ہاں، میں نے جان لیا)۔
  • گناہوں کا اعتراف: اس میدان کو عرفات اس لیے بھی کہتے ہیں کیونکہ یہاں آ کر بندہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اپنے گناہوں کا "اعتراف” (قبول) کرتا ہے اور رب اسے معاف فرما دیتا ہے۔

خطبۂ حجتہ الوداع: انسانی حقوق کا پہلا عالمی منشور

میدانِ عرفات صرف حج کا ایک رکن نہیں ہے، بلکہ یہ اس تاریخی خطبے کا گواہ ہے جو کائنات کے سب سے عظیم رہنما، نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے 10 ہجری (632ء) کو اپنے آخری حج کے موقع پر دیا تھا۔

عرفات کے میدان میں موجود ‘جبلِ رحمت’ (رحمت کا پہاڑ) کے پاس کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام کے سامنے وہ خطبہ دیا جسے آج دنیا "خطبۂ حجۃ الوداع” کہتی ہے۔ یہ خطبہ انسانی حقوق کا پہلا اور سب سے بڑا منشور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا:

"کسی عربی کو کسی عجمی پر، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر، اور نہ کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت حاصل ہے، مگر تقویٰ کے سبب۔”

اسی میدان میں سود کا خاتمہ کیا گیا، عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا، اور انسانی جان و مال کو محترم قرار دیا گیا۔ اسی دن میدانِ عرفات میں قرآن پاک کی یہ مشہور آیت نازل ہوئی: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی۔” (سورہ المائدہ: 3)


حج کا سب سے بڑا رکن: "الحج عرفہ”

اسلامی شریعت میں عرفات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حج کی قبولیت اسی میدان میں حاضر ہونے سے مشروط ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:

"الحج عرفہ” (یعنی حج تو اصل میں عرفات میں وقوف کرنے کا نام ہے)۔

اگر کوئی شخص مکہ پہنچ جائے، مگر نو ذوالحجہ کو زوالِ آفتاب (دوپہر) سے لے کر غروبِ آفتاب تک کے درمیان چند لمحوں کے لیے بھی میدانِ عرفات نہ پہنچ سکے، تو اس کا حج ادا نہیں ہوتا۔ یہاں لاکھوں حاجی ایک ہی رنگ کے دو سفید کپڑوں (احرام) میں، زبان پر "لبیک اللھم لبیک” کی صدا لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ وہاں نہ کوئی بادشاہ ہوتا ہے نہ فقیر، نہ کوئی گورا ہوتا ہے نہ کالا۔ یہ منظر قیامت کے میدان کی یاد دلاتا ہے جہاں سب برابر ہوں گے۔


غیر حاجیوں کے لیے فضیلت: دو سال کے گناہوں کا کفارہ

یومِ عرفہ کی برکات صرف حج کرنے والوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ دنیا بھر میں موجود وہ مسلمان جو حج پر نہیں جا سکے، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے اس دن میں عظیم ثواب رکھا ہے۔

صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق، رسول اللہ ﷺ سے جب یومِ عرفہ (عید سے ایک دن پہلے) کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

"مجھے اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے (صغیرہ) گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔”

صرف ایک دن کا روزہ رکھنے سے اللہ تعالیٰ انسان کے دو سال کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان عید سے ایک دن پہلے بڑے اہتمام سے روزہ رکھتے ہیں۔


جہنم سے آزادی کا دن

روایات میں آتا ہے کہ یومِ عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور فرشتوں کے سامنے میدانِ عرفات میں جمع ہونے والے بندوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے: "دیکھو! میرے بندے دور دور سے پراگندہ بال اور غبار آلود چہروں کے ساتھ میری رحمت کی امید لیے آئے ہیں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان سب کو معاف کر دیا۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ سال کے کسی بھی دن میں عرفہ کے دن سے زیادہ بندوں کو جہنم کے عذاب سے آزادی نہیں دیتا۔”


نتیجہ: ایک مسلمان کے لیے پیغام

یومِ عرفہ صرف ایک تاریخی دن یا چھٹی کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ توبہ، رجوع الی اللہ اور اپنی زندگی کو بدلنے کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے حضور عاجزی اختیار کی جائے، اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے اور رنگ و نسل کے فرق کو مٹا کر سب انسانوں کو برابر سمجھا جائے۔

چاہے کوئی میدانِ عرفات میں کھڑا رو رہا ہو، یا اپنے گھر میں بیٹھ کر عید سے ایک دن پہلے کا روزہ رکھ کر دعا کر رہا ہو—یہ دن ہر مسلمان کے لیے رب کی رحمت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا بہترین موقع ہے۔

https://commercenews.pk

https://dostnews.com

آسمانِ دنیا پر رحمت کی برسات: یومِ عرفہ 9 ذی الحجّہ کی فضیلت اور حقیقت

آسمانِ دنیا پر رحمت کی برسات: یومِ عرفہ 9 ذی الحجّہ کی فضیلت اور حقیقت

آسمانِ دنیا پر رحمت کی برسات: یومِ عرفہ 9 ذی الحجّہ کی فضیلت اور حقیقت

آسمانِ دنیا پر رحمت کی برسات: یومِ عرفہ 9 ذی الحجّہ کی فضیلت اور حقیقت

https://dostmarketing.pk

جہنم سے آزادی کا دن

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں