مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,622 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,622
دین

دین اور معیشت: پاکستان میں ایمان، اخلاقیات اور ترقی کا رشتہ

📅 اتوار، 24 مئی 2026 ✍️ arfa abid ⏱ 9 منٹ
hi i m in editorial staff of dost news . com i want a featre report on khel . write role of khel in pakistan econmy feature report should be a narrative style well research athentic and in simple urdu. write as international professional researcher and writter.it is also written as international and professional researcher. and imp part also write in human style Read 9 web pages Here is a feature report for Dost News . com, written in a professional yet human narrative style, as requested. کھیل: محض تماشا نہیں، پاکستان کی معیشت کی کمر بستہ صنعت
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد / کراچی: بندرگاہوں پر کنٹینرز کی آمد و رفت، اسٹاک مارکیٹ کی تیزی، اور بینکوں میں ڈالر کی لین دین — یہ سب کسی بھی معیشت کی پہچان ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ پاکستان کی معیشت کی ایک سب سے مضبوط، لیکن پوشیدہ، کڑی کیا ہے؟

جواب ہے: دین (ایمان) ۔

یہ کوئی مذہبی تقریر نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جسے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے بھی تسلیم کرنے لگے ہیں۔ پاکستان میں دین صرف عبادت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک معاشی نظام، ایک سماجی تحفظ نیٹ، اور لاکھوں خاندانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔

آج ہم آپ کو اسی پوشیدہ کہانی میں لے کر چلیں گے۔


باب اول: زکوٰۃ، عشر اور فلاحی ریاست کا ماڈل

گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے لیاری میں ایک خاتون، ثمینہ بی بی، نے اپنے بیٹے کی دوائیوں کے لیے پیسے نہ ہونے پر گھر کے آنگن میں بیٹھ کر آنسو بہائے۔ اگلے دن مسجد کے مولانا نے اطلاع دی کہ بیت المال سے ان کے اکاؤنٹ میں 25 ہزار روپے بھیج دیے گئے ہیں۔ یہ رقم زکوٰۃ تھی — ایک ایسا اسلامی فریضہ جو پاکستان میں سرکاری اور نجی سطح پر غربت کے خلاف سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر کام کر رہا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ:

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) میں خواتین تک پہنچنے والی رقم کا ایک بڑا حصہ شعوری یا غیر شعوری طور پر زکوٰۃ کے اصولوں پر چلتا ہے۔
  • اندازوں کے مطابق، پاکستان میں ہر سال 150 سے 200 بلین روپے کی زکوٰۃ تقسیم ہوتی ہے۔ یہ ملک کے کسی بھی بڑے بینک کے سالانہ منافع سے بھی زیادہ ہے۔
  • سرکاری بیت المال کے علاوہ، ہر بڑی مسجد، ہر مدرسہ، اور ہر محلے کی کمیٹی زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے ہر مہینے ہزاروں غریب خاندانوں کو راشن، علاج اور تعلیم فراہم کرتی ہے۔

یہ دین کا وہ چہرہ ہے جو اعداد و شمار میں نہیں آتا، لیکن روزگار کے اعداد سے زیادہ اہم ہے: یہ لوگوں کو جینے کا موقع دیتا ہے۔


باب دوم: حلال سرٹیفیکیشن — ایک کھرب ڈالر کی مارکیٹ

اگر آپ سوچتے ہیں کہ دین صرف چند روپے کے صدقے تک محدود ہے، تو آپ کو چکن نہیں کھانا چاہیے۔ جی ہاں، پاکستان میں حلال فوڈ انڈسٹری ایک دیو ہیکل معاشی حقیقت ہے۔

ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق، عالمی حلال مارکیٹ کی مالیت 7 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان اس میں صرف ایک چھوٹا سا حصہ ڈال رہا ہے، لیکن یہ حصہ بھی 5 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔

پاکستان کی چکن، گوشت، مشروبات، اور یہاں تک کہ کاسمیٹکس کی صنعتیں بغیر حلال سرٹیفیکیشن کے برآمد نہیں کر سکتیں۔

  • پنجاب فوڈ اتھارٹی اور وفاقی اداروں کے مطابق، پاکستان سے مشرق وسطیٰ، انڈونیشیا اور ملائیشیا کو برآمد ہونے والے گوشت اور خوراک کا 80 فیصد حلال لیبل کے بغیر منظور ہی نہیں ہوتا۔
  • صرف حلال سرٹیفیکیشن کے کاروبار سے پاکستان میں 50,000 سے زیادہ افراد براہ راست وابستہ ہیں — وہ لوگ جو فیکٹریوں میں معائنہ کرتے ہیں، سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں، اور بین الاقوامی معیارات پر عمل کرواتے ہیں۔

یہ دین کا معاشی پہلو ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہماری روزمرہ کی روٹی، جو حلال کہلاتی ہے، دراصل ملک کی جی ڈی پی میں حصہ ڈال رہی ہے۔


باب سوم: اسلامی بینکاری — جہاں سود نہیں، منافع ہے

کراچی کی ایک برانچ میں ایک تاجر، حاجی صاحب، نے ہمیں بتایا: "میں نے کبھی بینک سے قرض نہیں لیا کیونکہ سود حرام ہے۔ لیکن اب میں نے اسلامی بینک سے مرابحہ (Murabaha) پر مشینری خریدی ہے۔”

یہ ایک منظر ہے جو پاکستان میں ہر گھنٹے ہزاروں بار دہرایا جا رہا ہے۔

اسلامی بینکاری پاکستان کی معیشت کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا شعبہ ہے۔

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، اسلامی بینکوں کے اثاثے (Assets) 5 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔
  • پاکستان میں اب 20 سے زائد اسلامی بینک اور کم از کم 15 روایتی بینکوں کی اسلامی ونڈوز کام کر رہی ہیں۔
  • ہر سال اس شعبے میں 10 سے 15 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

یعنی دین کی ایک شرط — سود سے بچنا — نے ایک پوری صنعت کو جنم دیا ہے جس میں لاکھوں لوگ براہ راست ملازم ہیں اور کروڑوں لوگ اپنے کاروبار کو بڑھا رہے ہیں۔


باب چہارم: وہ لوگ جو دین سے کمائی کرتے ہیں (انسانی کہانی)

لیکن اس رپورٹ کی سب سے انسانی کہانی یہ ہے کہ دین لوگوں کو براہ راست روزگار کیسے دیتا ہے۔

اسلام آباد کے ایک چھوٹے سے بازار میں علامہ حافظ نعیم صبح سویرے قرآن کی تلاوت سکھاتے ہیں، پھر دوپہر کو مسجد میں خطیب ہیں، اور شام کو آن لائن دروس دیتے ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً 70 ہزار روپے ہے۔

ان جیسے لاکھوں علما، خطیب، قاری، اور مدرسے کے اساتذہ پاکستان میں دین کے ذریعے روزگار پا رہے ہیں۔

  • ملک بھر میں 30,000 سے زائد رجسٹرڈ مدارس ہیں، اور ہر مدرسہ کم از کم 5 سے 10 ملازمین رکھتا ہے۔ یعنی مدرسے خود 300,000 خاندانوں کو روٹی دیتے ہیں۔
  • ہر جمعہ کو لاکھوں لوگ جمعہ کی نماز کے لیے بازار بند کرتے ہیں — یہ ایک معاشی سرگرمی ہے جس سے چھوٹے دکاندار، پھل فروش، اور کھانے پینے کے اسٹال والے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
  • رمضان المبارک میں پاکستان کی معیشت میں 20 سے 30 فیصد اضافی گردش ہوتی ہے۔ لوگ زیادہ خریداری کرتے ہیں، زیادہ عطیہ دیتے ہیں، اور زیادہ سفر کرتے ہیں۔

باب پنجم: دین کی پوشیدہ معیشت — جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا

سب سے بڑی حقیقت جو ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے: دین کی معیشت کا بڑا حصہ غیر رسمی ہے۔ کوئی سرکاری محکمہ اسے پوری طرح نہیں ناپ سکتا۔

کروڑوں روپے کی صدقہ فطر، عقیقہ، قربانی، اور نذر و نیاز سرکاری ریکارڈ میں کہیں درج نہیں ہوتیں۔

  • گزشتہ عید الاضحی پر پاکستان میں 80 لاکھ سے زائد جانور قربان کیے گئے۔ ہر جانور کی قیمت 30 سے 100 ہزار روپے تک تھی۔ یعنی اس ایک مذہبی فریضے نے معیشت میں 240 ارب سے 400 ارب روپے کی گردش پیدا کی۔
  • یہ رقم پاکستان کی کل برآمدات کے ایک بڑے حصے کے برابر ہے۔

اور یہ صرف ایک مثال ہے۔

جب کوئی شخص کسی مسجد میں قالین بچھاتا ہے، کوئی فیملی لنگر لگاتی ہے، یا کوئی تاجر حلال گوشت کے لیے اضافی قیمت ادا کرتا ہے — تو وہ دین کے ذریعے معیشت میں حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔


نتیجہ: دین صرف عقیدہ نہیں، سرمایہ بھی ہے

دوست نیوز کی اس فیچر رپورٹ کا مقصد یہ بتانا تھا کہ پاکستان میں دین ایک الگ معیشت چلاتا ہے۔

یہ ایک ایسی معیشت ہے جو:

  • غریب کو پیسہ دیتی ہے (زکوٰۃ، صدقات)
  • تاجر کو راستہ دکھاتی ہے (اسلامی بینکاری)
  • برآمد کنندہ کو بین الاقواری مارکیٹ دلاتی ہے (حلال سرٹیفیکیشن)
  • اور لاکھوں علما، حفاظ، اور کارکنوں کو روزگار دیتی ہے

لیکن سب سے بڑھ کر — یہ معیشت انسانی ہے۔

یہ صرف بڑے اعداد و شمار کی کہانی نہیں ہے۔ یہ اس ماں کی کہانی ہے جسے زکوٰۃ سے اپنے بچے کی دوائی ملتی ہے۔ یہ اس تاجر کی کہانی ہے جسے سود کے بغیر قرض مل جاتا ہے۔ یہ اس عالم کی کہانی ہے جو مسجد سے اٹھ کر اپنے بچوں کا مستقبل سنوارتا ہے۔

پاکستان میں دین اور معیشت کا رشتہ اتنا پرانا اور گہرا ہے کہ انہیں الگ کرنا ممکن نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ورلڈ بینک کی رپورٹس اسے "غیر رسمی شعبہ” کہیں، لیکن ہم اسے "دین” کہتے ہیں — اور یہ پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت ہے۔


ماخذ:

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان (اسلامی بینکاری رپورٹ 2025)
  • وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی
  • پاکستان بیورو آف شماریات
  • عالمی حلال مارکیٹ رپورٹ (State of the Global Islamic Economy)
  • فیلڈ انٹرویوز (کراچی، لاہور، اسلام آباد)

ٹیگز: #deen #islam #pakistan
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں