اسلام آباد — خوابوں کا شہر یا بند راستوں کی اذیت؟

تحریر: محمد خالد
اسلام آباد کبھی سکون، خوبصورتی اور نظم و ضبط کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ کشادہ سڑکیں، سرسبز ماحول، خاموش فضائیں اور ایک منظم شہری زندگی اس شہر کی پہچان تھیں۔ لوگ اسے پاکستان کا سب سے پُرامن اور بہترین منصوبہ بندی والا شہر کہتے تھے۔ مگر آج یہی اسلام آباد اپنے ہی شہریوں کے لیے ایک مسلسل آزمائش بنتا جا رہا ہے۔
اب اس شہر میں گھر سے نکلنے والا ہر شخص بے یقینی کا شکار ہوتا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے چند منٹوں میں کون سی شاہراہ بند ہو جائے گی، کس چوک پر کنٹینر کھڑے ہوں گے، کہاں وی آئی پی موومنٹ شروع ہو جائے گی یا کس مقام پر سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کو گھنٹوں ذلیل ہونا پڑے گا۔
یہ سوال اب شدت سے اٹھنے لگا ہے کہ آخر ایک پورا شہر چند شخصیات، چند قافلوں اور چند احتجاجوں کی وجہ سے کب تک یرغمال بنتا رہے گا؟
اسلام آباد میں معمولاتِ زندگی اب معمول نہیں رہے۔ صبح دفتر جانے والا ملازم ذہنی دباؤ کے ساتھ نکلتا ہے، والدین بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے پریشان رہتے ہیں، مریض ہسپتال پہنچنے کے لیے دعائیں مانگتے ہیں اور کاروباری طبقہ ہر دوسرے دن ٹریفک جام اور بند راستوں کی وجہ سے مالی نقصان برداشت کرتا ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس اذیت کو اب “معمول” بنا دیا گیا ہے۔
کبھی وی آئی پی روٹ کے نام پر شہریوں کو سڑک کنارے روک دیا جاتا ہے، کبھی کسی اہم شخصیت کا سکواڈ پورے شہر کی رفتار سلب کر لیتا ہے، اور کبھی احتجاج یا دھرنوں کے باعث اسلام آباد کا حسن کنٹینروں کے جنگل میں بدل جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کے مہذب دارالحکومت ایسے چلتے ہیں؟
دنیا کے کئی ممالک میں سربراہانِ مملکت کی نقل و حرکت ہوتی ہے، غیر ملکی وفود بھی آتے ہیں، سیکیورٹی خدشات بھی موجود ہوتے ہیں، مگر وہاں پورے شہروں کو مفلوج نہیں کیا جاتا۔ وہاں شہریوں کی زندگی کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی، متبادل راستے، انڈر گراؤنڈ کوریڈورز اور جدید سیکیورٹی نظام استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کم سے کم متاثر ہوں۔
مگر ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں اکثر محسوس ہوتا ہے کہ شہر عوام کے لیے نہیں بلکہ پروٹوکول کے لیے بنایا گیا ہے۔
ہائی کورٹ کو ریڈ زون منتقل کرنے کا فیصلہ بھی شہری مشکلات میں اضافے کا باعث بنا۔ ریڈ زون وہ علاقہ ہے جہاں آئے روز سیکیورٹی ہائی الرٹ رہتی ہے، راستے بند ہوتے ہیں، چیک پوسٹیں قائم ہوتی ہیں اور نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے۔ ایسے میں عام شہری، وکلاء، سائلین اور سرکاری ملازمین سب اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ کیسی منصوبہ بندی ہے جہاں ادارے تو منتقل کر دیے جاتے ہیں مگر شہری سہولتوں پر غور نہیں کیا جاتا؟
اسلام آباد کے شہری اب صرف ٹریفک جام سے تنگ نہیں، بلکہ وہ ذہنی تھکن کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک ایسا شہر جہاں کسی بھی وقت راستے بند ہو جائیں، جہاں ایمبولینسیں رک جائیں، جہاں سکول وینز گھنٹوں پھنسی رہیں، وہاں شہری سکون کیسے ممکن ہے؟
چند سال پہلے انہی سڑکوں پر بلوائی جتھوں نے راج کیا۔ شہر کئی کئی دن بند رہا۔ کاروبار تباہ ہوئے، مریض پریشان ہوئے، مزدور دیہاڑی سے محروم ہوئے، مگر فیصلہ ساز شاید اس تکلیف کو کبھی محسوس نہ کر سکے کیونکہ ان کے راستے ہمیشہ کھلے رہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام آباد کے لیے ایک مستقل اور جدید حل نکالا جائے۔
اگر وی آئی پیز کی سیکیورٹی اتنی ہی ناگزیر ہے تو ان کے لیے الگ انڈر گراؤنڈ راستے، خصوصی کوریڈورز یا مخصوص زونز بنائے جائیں تاکہ پورا شہر مفلوج نہ ہو۔ اگر غیر ملکی وفود کی آمد اہم ہے تو ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس سے شہری زندگی متاثر نہ ہو۔ اگر احتجاج جمہوری حق ہے تو اس کے لیے مخصوص مقامات مقرر کیے جائیں جہاں پورے دارالحکومت کو یرغمال نہ بنایا جا سکے۔
ریاست کی اصل طاقت عوام کے اعتماد سے ہوتی ہے، اور جب شہری روزانہ اذیت، بے بسی اور غیر یقینی کا شکار ہوں تو اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔
اسلام آباد صرف حکمرانوں کا شہر نہیں، یہ لاکھوں عام شہریوں کا بھی شہر ہے۔ یہاں طلبہ رہتے ہیں، مزدور رہتے ہیں، صحافی رہتے ہیں، ملازمین، تاجر، مریض، بزرگ اور بچے رہتے ہیں۔ ان سب کو بھی جینے، سفر کرنے اور سکون سے سانس لینے کا حق ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ ساز شیشوں والی گاڑیوں سے باہر نکل کر عام شہری کی تکلیف کو محسوس کریں۔
کیونکہ شہر صرف عمارتوں سے نہیں، لوگوں سے زندہ رہتے ہیں۔
اور جب لوگ ہی پریشان ہو جائیں تو خوبصورت دارالحکومت بھی ایک اذیت گاہ بن جاتا ہے
