مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,543 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,347 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,543 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,347
تازہ ترین

افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق بھارتی دعوے بے بنیاد ہیں، پاکستان

📅 جمعرات، 21 مئی 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 8 منٹ
اقوام متحدہ کا افغان میں خواتین پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اقوام متحدہ ۔21مئی (دوست نیوز):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی جانب سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ درحقیقت بھارت خود پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان مشن کی کونسلر صائمہ سلیم نے بدھ کو ’’ مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ‘‘سے متعلق سلامتی کونسل کے مباحثے کے دوران بھارتی مندوب کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت کی پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کوئی فرضی بات نہیں بلکہ اس کی بھاری انسانی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔پاکستانی مندوب نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے بھارتی مستقل مندوب ہریش پروتھانی کے ان الزامات کو بھی رد کیا جن میں پاکستان پر 1971 میں’’نسل کشی‘‘ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔بھارتی مندوب نے یہ ردعمل اس بیان کے بعد دیا تھا جو اس سے قبل اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دیا، جس میں انہوں نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں کشمیری خواتین اور بچیوں پر بھارتی فوج کے مظالم کو اجاگر کیا تھا۔صائمہ سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج بھارت ایک بار پھر خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن دنیا اس نقاب کے پیچھے چھپے چہرے کو پہچان چکی ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست کا چہرہ ہے جو بیرونِ ملک دہشت گردی برآمد کرتی ہے، طاقت کے ذریعے لوگوں کو محکوم بناتی ہے، اپنے ملک میں اقلیتوں کو نشانہ بناتی ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے اور خطے میں جارحیت کو فروغ دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیمیں، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP)، بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور مجید بریگیڈ شامل ہیں، پاکستان میں مساجد، بازاروں، سکولوں اور عوامی مقامات پر حملوں کے ذریعے ہزاروں شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا چکی ہیں۔

افغانستان کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز، اسلحہ گوداموں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف انتہائی محتاط اور پیشہ ورانہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں کیں، جن کا مقصد صرف دہشت گرد عناصر تھے، نہ کہ افغان عوام یا شہری تنصیبات۔انہوں نے طالبان حکومت اور بھارت کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو ’’گمراہ کن مہم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اس بات پر مایوسی ہے کہ پاکستان کے مؤثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے باعث افغان سرزمین استعمال کرنے والی دہشت گرد نیٹ ورکس ناکام ہو رہی ہیں۔صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر، جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، میں شہریوں کو قتل، گرفتار، بے دخل اور خاموش کیا جا رہا ہے، گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور بنیادی آزادیوں کو کچلا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوتوا انتہا پسندی کے زیرِ سایہ بھارت میں اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی گئی ہے، نفرت انگیز تقاریر کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، ہجوم کے تشدد کو سزا سے استثنا حاصل ہے، جبکہ مسلمان، سکھ، دلت اور عیسائی سمیت دیگر اقلیتیں روزانہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ پاکستانی مندوب نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے رویے کو بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ریاست لاکھوں پاکستانیوں کے پانی، خوراک اور روزگار کو خطرے میں ڈالے، وہ شہریوں کے تحفظ پر بات کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات، تنازعات کے پُرامن حل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے، جبکہ بھارت دہشت گردی، قبضے، جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔

تجزیہ: ایک سفارتی محاذ آرائی

اقوامِ متحدہ میں ہونے والی یہ بحث محض الفاظ کا تبادلہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر "سفارتی جنگ” (Diplomatic Warfare) کا حصہ ہے۔ بھارت کا مقصد پاکستان کو دہشت گردی کے سرپرست کے طور پر پیش کر کے عالمی تنہائی کا شکار کرنا ہے، جبکہ پاکستان کا ردعمل "موازی احتساب” (Counter-Accountability) کی حکمت عملی پر مبنی ہے، جہاں وہ بھارت کے اندرونی مظالم اور پراکسی وار کو عالمی سطح پر بے نقاب کر رہا ہے۔

بھارتی پروپیگنڈا اور اس کے مقاصد

  • بیانیے کی تبدیلی (Narrative Shift): بھارت کا مقصد اپنے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر افغان شہریوں کی ہلاکتوں کے الزامات عائد کرنا ہے۔
  • تزویراتی تنہائی: بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی ریاست کے طور پر پیش کیا جائے تاکہ اس کی معاشی اور تزویراتی پوزیشن کو کمزور کیا جا سکے۔
  • گمراہ کن مہم: طالبان حکومت کے ساتھ مل کر الزامات تراشی کا مقصد پاکستان کے کامیاب انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کو "شہری آبادی پر حملہ” ظاہر کرنا ہے۔

پاکستان کی امن کوششیں اور اصولی موقف

  • انسدادِ دہشت گردی میں پیشہ ورانہ مہارت: پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف اور صرف دہشت گردوں (TTP، BLA) کے خلاف ہیں جو پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں، نہ کہ افغان عوام کے خلاف۔
  • عالمی قوانین کا احترام: پاکستان کا موقف ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے سے لے کر خطے میں قیامِ امن تک، تمام تر بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پاسدار ہے۔
  • مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ: پاکستان نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ بھارت کا "مظلومیت کا ڈرامہ” ان حقیقتوں کے برعکس ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی، ہندوتوا انتہا پسندی، اور اقلیتوں کے خلاف جاری مظالم سے جڑی ہیں۔
  • پُرامن حل کا داعی: پاکستان نے عالمی فورمز پر ہمیشہ مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے تحت تنازعات کے حل پر زور دیا ہے، جو کہ اس کے ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

نتیجہ:

پاکستان کی جانب سے صائمہ سلیم کا دو ٹوک اور حقائق پر مبنی موقف عالمی سطح پر بھارت کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ بین الاقوامی برادری اب یہ سمجھنے لگی ہے کہ خطے میں عدم استحکام کا بنیادی سبب بھارت کی جارحانہ پالیسیاں اور اقلیتوں کے خلاف جاری ریاستی جبر ہے۔ پاکستان کے لیے اب ضروری ہے کہ وہ اسی طرح شواہد پر مبنی بیانیے کو عالمی فورمز پر جاری رکھے اور بھارت کے پروپیگنڈے کو حقیقت پسندی سے شکست دے۔

ٹیگز: #afghan #india #pakistan
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں