قربانی کی اہمیت وفضیلت

قربانی کی اہمیت وفضیلت
The Importance and Virtue of Sacrifice
نبی ﷺ كا امت کو قربانی کرنے کی تاکید كرنا
- The Prophet ( ﷺ ) urging the Ummah to Sacrifice*
🍃 عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ كُنَّا وُقُوفًا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ بِعَرَفَاتٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ۔ [سنن الترمذی:1518] صحيح
🍃 مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا تو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! ہر سال ہر گھر والوں پر قربانی ہے۔
🍃 Mikhnaf ibn Saleem ( رضی اللہ عنه ) said: We were with the Prophet ( ﷺ ) at Arafat when I heard him saying: O people! Every year there is a sacrifice on every family.
🍃عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:” مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا”. [سنن ابن ماجة:3123] إسناده حسن
🍃ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس (قربانی کرنے کی) گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو اسے چاہیے کہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔“
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever can afford it, but does not offer a sacrifice, let him not come near our prayer place.”
قربانی کی اہمیت اور فضیلت: ایک جائزہ
قربانی کا عمل محض ایک رسم نہیں، بلکہ یہ اطاعتِ الٰہی، تقویٰ، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یادگار ہے۔ اسلام میں قربانی کو شعائرِ اسلام میں شمار کیا گیا ہے۔ ذیل میں احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں اس کی اہمیت اور فضیلت پر ایک جامع تصریح پیش کی جا رہی ہے۔
قربانی کی اہمیت و فضیلت (تصریح)
1. قربانی: امتِ مسلمہ کا شعار
مذکورہ حدیث (سنن الترمذی: 1518) میں نبی کریم ﷺ نے عرفات کے میدان میں، جہاں لاکھوں مسلمانوں کا مجمع تھا، نہایت تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ہر گھر والے پر سالانہ ایک قربانی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قربانی اسلام کا ایک ایسا امتیاز ہے جو ہر صاحبِ استطاعت گھرانے کو بہر صورت ادا کرنا چاہیے۔ یہ عمل اللہ کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنے اور اپنی پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عملی مظاہرہ ہے۔
2. استطاعت کے باوجود ترکِ قربانی پر تنبیہ
حدیث (سنن ابن ماجہ: 3123) قربانی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے کہ جس شخص کو اللہ نے وسعت دی ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے شدید الفاظ استعمال فرمائے: "وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔”
- اس حدیث کی تشریح: فقہائے کرام کے نزدیک یہ تنبیہ اس بات کی دلیل ہے کہ صاحبِ نصاب شخص پر قربانی واجب ہے اور اسے معمولی سمجھ کر چھوڑ دینا گناہِ کبیرہ کے قریب ہے۔ عید گاہ سے دوری کی وعید اس لیے ہے کہ جو شخص اس عظیم سنتِ ابراہیمی میں شریک نہیں ہوتا، وہ اہلِ ایمان کی خوشی اور اللہ کے قرب کے اس خاص موقع سے خود کو محروم کر لیتا ہے۔
3. قربانی کا مقصود: تقویٰ اور خلوص
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"ہرگز نہ تو اللہ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، لیکن اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے۔” (سورۃ الحج: 37)
قربانی کا اصل مقصد جانور کا گوشت نہیں، بلکہ دل کی وہ کیفیت ہے جو بندے کو اللہ کی رضا کے لیے ہر قربانی دینے پر آمادہ کرتی ہے۔
قربانی کی اہمیت و فوائد (نکات)
- سنتِ ابراہیمی کی تجدید: قربانی ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے اس عظیم جذبے کی یاد دلاتی ہے جس میں انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنی سب سے عزیز چیز کو پیش کرنے میں تامل نہیں کیا۔
- معاشرتی ہمدردی: قربانی کا گوشت رشتہ داروں، غریبوں اور مسکینوں تک پہنچتا ہے۔ یہ عمل معاشرے میں معاشی توازن اور ہمدردی کے جذبے کو فروغ دیتا ہے۔
- رزق میں برکت: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ پاکیزہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ رزق میں اضافہ فرماتا ہے۔
- تقویٰ کا حصول: قربانی کرنے والا شخص اپنے نفس کی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کر دیتا ہے، جو تقویٰ کی معراج ہے۔
خلاصہ
قربانی، صاحبِ استطاعت افراد پر ایک الٰہی ذمہ داری ہے۔ اسے صرف ایک مالی عبادت نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ اللہ کے حضور شکرانے کا ایک ذریعہ ہے۔ نبی ﷺ کی تاکید اور شدید وعیدیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ قربانی کے ایام میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس سنتِ مؤکدہ کو پورے اہتمام کے ساتھ ادا کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنتِ ابراہیمی پر عمل کرنے اور خلوصِ نیت کے ساتھ قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
