مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,052 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,057 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,052 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,057
تازہ ترین

بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں تفصیلی طبی معائنہ

📅 منگل، 19 مئی 2026 ✍️ Editor ⏱ 11 منٹ
imaran khan
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

راولپنڈی(سٹی رپورٹر)بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں تفصیلی طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا۔ جیل ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم معائنے کے بعد اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئی۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ ڈاکٹر عارف خان اور پروفیسر ندیم قریشی نے کیا، جبکہ ماہرِ امراضِ چشم کو پمز کی میڈیکل ٹیم کی معاونت بھی حاصل رہی۔ ڈاکٹروں نے متاثرہ آنکھ کا فالو اپ معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ مکمل طبی چیک اپ بھی کیا۔جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیم تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک اڈیالہ جیل میں موجود رہی۔ معائنے کے بعد تیار کی جانے والی میڈیکل رپورٹ کمشنر اسلام آباد کو پیش کی جائے گی۔

خصوصی تجزیہ — دوست نیوز

اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی طبی معائنہ: صحت، شفافیت اور قیدی حقوق کا حساس معاملہ

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے طبی معائنے کی تازہ پیش رفت ایک معمول کی میڈیکل کارروائی سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ یہ معاملہ صرف ایک قیدی سیاست دان کی صحت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ عدالتی احکامات، جیل انتظامیہ کی ذمہ داری، حکومتی مؤقف، خاندان اور ذاتی معالج تک رسائی، اور شفافیت کے سوالات بھی جڑ گئے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق 19 مئی 2026 کو ایک میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی، جس میں ڈاکٹر عارف خان، پروفیسر ندیم قریشی اور دیگر ڈاکٹرز شامل تھے، جبکہ پمز اور الشفا آئی ٹرسٹ کے ڈاکٹرز بھی ٹیم کا حصہ بتائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ آنکھ کا فالو اَپ معائنہ کیا گیا اور اس کے علاوہ مکمل طبی معائنہ بھی ہوا؛ ٹیم تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جیل میں موجود رہی اور رپورٹ کمشنر اسلام آباد کو پیش کی جانی ہے۔ (City 42)

اس کیس کا پس منظر جنوری اور فروری 2026 سے جڑا ہوا ہے، جب عمران خان کی آنکھ، خاص طور پر دائیں آنکھ، کے حوالے سے سنگین خدشات سامنے آئے۔ رائٹرز کے مطابق ان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں بتایا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہوئی اور صرف 15 فیصد بینائی باقی رہنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اکتوبر 2025 سے دھندلا پن اور نظر کی خرابی کی شکایت کی تھی، جبکہ سپریم کورٹ نے 16 فروری تک ذاتی معالج تک رسائی اور طبی رپورٹ سے متعلق کارروائی کی ہدایت دی تھی۔ (Reuters)

حکومتی مؤقف اس کے برعکس نسبتاً اطمینان بخش رہا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ عمران خان ایک سرکاری اسپتال میں آنکھ کے علاج کے بعد صحت مند ہیں، اور ان کا 20 منٹ کا طبی طریقہ کار ان کی رضامندی سے کیا گیا۔ مگر اسی خبر میں پی ٹی آئی اور خاندان کے تحفظات بھی شامل تھے، جن میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ طبی تفصیلات، علاج کرنے والے ڈاکٹرز، اور اسپتال منتقلی کی مکمل معلومات خاندان یا قانونی ٹیم کو بروقت کیوں نہیں دی گئیں۔ (AP News)

15 اور 16 فروری 2026 کو اڈیالہ جیل میں ہونے والے طبی معائنے کی تفصیلات نسبتاً زیادہ واضح طور پر سامنے آئیں۔ ڈان کے مطابق پانچ رکنی ڈاکٹرز ٹیم نے عمران خان کا آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا، خون کے نمونے لیے اور بلڈ پریشر چیک کیا۔ ڈان کی رپورٹ میں میڈیکل رپورٹ کے اعداد و شمار بھی دیے گئے: بغیر چشمے دائیں آنکھ کی نظر 6/24 جزوی اور بائیں آنکھ کی نظر 6/9 بتائی گئی؛ چشمے کے ساتھ دائیں آنکھ کی نظر 6/9 جزوی اور بائیں آنکھ 6/6 درج ہوئی۔ عام زبان میں 6/6 نارمل ویژن سمجھا جاتا ہے، جبکہ 6/9 کا مطلب ہے کہ مریض 6 میٹر سے وہ چیز دیکھتا ہے جو نارمل آنکھ 9 میٹر سے دیکھ سکتی ہے۔ (Dawn)

اسی میڈیکل رپورٹ میں دائیں آنکھ کے اندر ریٹینا سے متعلق کئی علامات کا ذکر تھا، جن میں ریٹینل ہیمریجز، کاٹن وول اسپاٹس، میکولر اوڈیما اور خون کی نالیوں کے پھیلاؤ جیسے نکات شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق او سی ٹی ٹیسٹ میں دائیں آنکھ کا میکولر اوڈیما کم ہوتا دکھائی دیا اور سینٹرل میکولر تھکنس 550 سے کم ہو کر 350 تک آئی، جسے بہتری کے طور پر نوٹ کیا گیا۔ رپورٹ میں نیوانیک، کوسوپٹ اور سسٹین الٹرا آئی ڈراپس تجویز کیے گئے، جبکہ اینٹی وی ای جی ایف کی دوسری خوراک شیڈول کے مطابق دینے کا مشورہ بھی شامل تھا۔ (Dawn)

مارچ 2026 میں بھی معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔ جیو نیوز کے مطابق 18 مارچ 2026 کو پانچ ڈاکٹرز اور معاون اسٹاف پر مشتمل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا دوبارہ معائنہ کیا۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کو سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن، یعنی سی آر وی او، کی تشخیص ہوئی؛ یہ آنکھ کی ایک سنجیدہ حالت ہے جس میں ریٹینا سے خون واپس لے جانے والی مرکزی رگ بند ہو جاتی ہے اور یہ کیفیت ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ذیابیطس یا دل کے امراض جیسے عوامل سے جڑی ہو سکتی ہے۔ (Geo News)

28 اپریل 2026 کو بھی عمران خان کو پمز لے جانے کی خبر سامنے آئی۔ سٹی 42 کے مطابق انہیں خصوصی سکیورٹی حصار میں اڈیالہ جیل سے پمز منتقل کیا گیا، جہاں آنکھوں، دانتوں اور دیگر حوالوں سے چیک اَپ کیا گیا، جبکہ جیل ذرائع نے اسے معمول کا طبی معائنہ قرار دیا۔ اسی رپورٹ میں پی ٹی آئی قیادت کے تحفظات بھی درج ہیں کہ طبی دوروں کی اطلاع خاندان یا قانونی ٹیم کو بروقت کیوں نہیں دی جاتی۔ (City 42)

اس پورے معاملے کا سب سے حساس پہلو یہ ہے کہ طبی معائنہ ہونے یا نہ ہونے سے زیادہ سوال شفافیت کا ہے۔ ایک طرف جیل ذرائع، حکومتی نمائندے اور میڈیکل بورڈ یہ کہتے رہے ہیں کہ معائنہ کیا جا رہا ہے، رپورٹس مرتب ہو رہی ہیں اور حالت بہتر ہے؛ دوسری طرف پی ٹی آئی، خاندان اور ذاتی معالج یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہیں آزادانہ رسائی نہیں دی گئی، جس کے بغیر سرکاری رپورٹ کی مکمل تصدیق ممکن نہیں۔ اے پی کے مطابق عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا تھا کہ وہ رپورٹ کردہ بہتری کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں خود عمران خان تک رسائی نہیں دی گئی۔ (AP News)

غیر جانبدار تحقیقی زاویے سے دیکھا جائے تو اس معاملے میں تین باتیں الگ الگ رکھنا ضروری ہیں۔ پہلی بات: دستیاب رپورٹس کے مطابق میڈیکل ٹیمیں واقعی اڈیالہ جیل گئیں، معائنہ ہوا، آنکھ کا فالو اَپ ہوا، بلڈ پریشر اور خون کے نمونے لیے گئے، اور کم از کم ایک رپورٹ میں نظر اور ریٹینا سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار موجود ہیں۔ دوسری بات: عمران خان کی دائیں آنکھ کے بارے میں سنگین طبی خدشات حقیقی بحث کا حصہ رہے ہیں، کیونکہ سی آر وی او جیسی حالت کو معمولی نہیں سمجھا جاتا۔ تیسری بات: صحت کی اصل صورتحال کا غیر متنازع تعین اسی وقت ممکن ہے جب مکمل میڈیکل رپورٹس، علاج کی ٹائم لائن، دوا کی تفصیل، اگلے فالو اَپ، اور ذاتی معالج کی آزاد رائے سامنے آئے۔

بین الاقوامی معیار کے مطابق قیدی کی صحت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کا بنیادی اصول یہ ہے کہ قیدیوں کو صحت کی وہ سہولت ملنی چاہیے جو عام شہریوں کو دستیاب ہے، اور جیل کا طبی نظام عمومی صحت عامہ کے نظام سے مربوط ہونا چاہیے۔ پاکستان کے جیل نظام پر ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پریزن رولز 1978 جیلوں میں میڈیکل افسر، جیل اسپتال اور بیمار قیدیوں کے علاج کا فریم ورک دیتے ہیں، مگر عملی سطح پر جیلوں میں صحت کی سہولتوں، عملے، ادویات اور اسپیشلسٹ رسائی کے مسائل بار بار رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ (United Nations)

اسی پس منظر میں عمران خان کا کیس ایک بڑے اصولی سوال کو سامنے لاتا ہے: کیا ایک ہائی پروفائل قیدی کے لیے علاج کا معیار صرف یہ ہے کہ ڈاکٹرز جیل آ کر معائنہ کر جائیں، یا شفافیت، خاندان کو اطلاع، ذاتی معالج کی رسائی، مکمل رپورٹ کی فراہمی اور علاج کے تسلسل کو بھی اس معیار کا حصہ ہونا چاہیے؟ جیل انتظامیہ کا نقطہ نظر سکیورٹی اور قانونی طریقہ کار کے گرد گھومتا ہے، جبکہ خاندان اور جماعت کا نقطہ نظر اعتماد اور شفافیت کے گرد۔ حقیقت یہ ہے کہ ہائی پروفائل قیدیوں کے معاملات میں صرف علاج کافی نہیں ہوتا، علاج کا قابلِ اعتماد اور دستاویزی ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔

آج تک دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا محتاط اور درست ہوگا کہ عمران خان کا اڈیالہ جیل میں تازہ طبی معائنہ ہوا، متاثرہ آنکھ کا فالو اَپ کیا گیا، عمومی طبی چیک اَپ بھی ہوا، ٹیم میں پمز اور الشفا آئی ٹرسٹ سے وابستہ ڈاکٹرز شامل تھے، اور رپورٹ کمشنر اسلام آباد کو بھیجی جانی ہے۔ تاہم یہ کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا کہ ان کی مکمل صحت تسلی بخش ہے یا نہیں، کیونکہ تازہ ترین 19 مئی کی تفصیلی میڈیکل رپورٹ عوامی سطح پر دستیاب نہیں۔ اسی طرح یہ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ تمام تحفظات دور ہو گئے ہیں، کیونکہ ذاتی معالج، خاندان اور قانونی ٹیم کی آزادانہ رسائی کا سوال ابھی بھی خبر کا مرکزی نکتہ ہے۔ (City 42)

نتیجہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا طبی معاملہ سیاسی شور سے الگ کر کے انسانی، قانونی اور طبی اصولوں پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر طبی رپورٹس واقعی بہتری دکھا رہی ہیں تو انہیں مناسب قانونی طریقہ کار کے تحت خاندان اور مجاز معالجین کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے۔ اگر کوئی خطرہ باقی ہے تو علاج میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ قیدی خواہ عام شہری ہو یا سابق وزیر اعظم، ریاستی تحویل میں اس کی صحت، عزتِ نفس اور جان کی حفاظت ریاست کی براہِ راست ذمہ داری ہے۔ یہی وہ معیار ہے جو اس خبر کو ایک سیاسی خبر سے آگے بڑھا کر انسانی حقوق، عدالتی نگرانی اور جیل اصلاحات کے بڑے سوال میں بدل دیتا ہے۔

ٹیگز: #804 #adyala #asim munir #bani pti #eye #imran khan #jail #maryam nawaz #nawaz sharif #pti #rawalpinid
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں