مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,052 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,057 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,052 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,057
تازہ ترین

سیاسی دروازے بند نہ کیے جائیں، مسائل کا حل صرف مذاکرات ہیں: بیرسٹر گوہر

📅 منگل، 19 مئی 2026 ✍️ Editor ⏱ 5 منٹ
barrister gohar
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر علی خان نے ملاقاتوں پر پابندی کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی تصادم نہیں، مساوی سلوک اور سیاسی حل چاہتی ہے، دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیہ اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔

راولپنڈی (خصوصی رپورٹ) اڈیالہ جیل بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات اور بات چیت کا چینل ہر صورت کھلا رہنا چاہیے، کیونکہ سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی طریقے سے ہی ممکن ہے۔دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں، دروازے اور دریچے کھلے رہیں تاکہ روشنی اور ہوا آتی رہے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، البتہ خیبر پختونخوا کے معاملات پر ایک ملاقات ضرور ہوئی تھی۔پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی سیاسی ڈیل یا مذاکرات کو آگے بڑھانا ہمارے کارڈز میں نہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملاقاتوں پر پابندیاں اور رہنماؤں کو ملنے سے روکنا غیر انسانی سلوک ہے، جس کے منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج بھی ملاقاتیں نہ ہوئیں تو حالات بہتری کی طرف نہیں جائیں گے۔ ان کے مطابق ہر پاکستانی یہ محسوس کر رہا ہے کہ ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔پارٹی قیادت اور بانی چیئرمین کی بہنوں نے یقین دہانی کرائی کہ ملاقات کے بعد کسی کے خلاف بیان بازی نہیں کریں گی، اس کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ڈاکٹر تک رسائی دی جائے اور ضرورت پڑنے پر اسپتال منتقل کیا جائے۔تحریک انصاف نہ کبھی لشکر کشی پر یقین رکھتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی چڑھائی یا تصادم کی سیاست کرتی ہے۔ہمیشہ مساوی سلوک کا مطالبہ کیا ہے، ہم پاکستان کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ پاکستان بھی ہمارا ہے اور فوج بھی ہماری ہے، ہم افواج پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔اگر تحریک انصاف کو سسٹم کا حصہ نہیں سمجھا جائے گا تو پھر احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔اپوزیشن کی بات سننا اور مذاکرات کا راستہ نکالنا ضروری ہے۔
دہشتگردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حالات واقعی خراب ہیں اور اس مسئلے پر پورے ملک کو ایک بیانیے پر اکٹھا ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے تاکہ دہشتگردی کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جا سکے۔
28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ فی الحال حکومت اس معاملے پر سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی، تاہم اگر صوبوں سے متعلق کوئی آئینی ترمیم لائی جاتی ہے تو آئین کے مطابق اس پر صوبوں کی رضامندی اور دو تہائی اکثریت ضروری ہوگی۔این ایف سی ایوارڈ جیسے معاملات وفاقی یکجہتی کی علامت ہیں، انہیں چھیڑنے کے بجائے حکومت کو دہشتگردی، ٹیکس اصلاحات اور معاشی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ملکی اور بین الاقوامی صورتحال کا مکمل ادراک ہے، لیکن بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر فوری توجہ دینا ضروری ہوتی ہے۔ اگر ہر چیز کو سرد خانے میں ڈال دیا جائے تو معاملات آگے نہیں بڑھتے۔گفتگو کے اختتام پر بیرسٹر گوہر نے شعر پڑھا:
جس جھولی میں سو چھید ہوئے
اس جھولی کا پھیلانا کیا
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے اور سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔

مختصر تفصیل:
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سیاسی بحران کا حل بات چیت اور افہام و تفہیم میں ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو ڈاکٹر تک رسائی دینے، ملاقاتوں پر پابندیاں ختم کرنے اور دہشتگردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا مطالبہ کیا۔


بیرسٹر گوہر، اڈیالہ جیل، تحریک انصاف، بانی پی ٹی آئی، سیاسی مذاکرات، اپوزیشن، پیپلز پارٹی، خیبر پختونخوا، دہشتگردی، نیشنل ایکشن پلان، آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ, پاکستان سیاست

ٹیگز: #asim munir #bilawal #field marshal #idyala jail #imran khan #maryam nawaz #nawaz sharif #pmnl #pti #zardar
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

1 تبصرہ

تبصرہ کریں