ایران نہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو بند رکھنا چاہتا ہے

اسلام آباد ( 16دوست نیوز_ مئی 2026ء ) ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو بند رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی مصالحتی کی کوششیں ناکام نہیں ہوئیں، مصالحتی کی کوششیں مشکلات کا شکار ضرور ہیں لیکن ناکام نہیں ہوئیں۔افزودہ یورینیم کی منتقلی پر روس کی تجویز زیر غور ہے۔ ایران نہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو بند رکھنا چاہتا ہے۔ ایرانی قوم عزت کی زبان سمجھتی ہے، ایران کا بڑا مسئلہ امریکا پر اعتماد کا ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جنگ کا آغاز نہیں کیا اپنا دفاع کیا، ہم جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کا ذمہ دار ایران نہیں ہے، آبنائے ہرمز صرف ان ممالک کے لیے بند ہے جو ہم سے جنگ میں ملوث تھے، کئی بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے رہنمائی کی، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہیں، جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے لیے رہنمائی کر رہے ہیں، آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے بحری جہازوں کو ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے، ہرمز کے ارد گرد صورتحال بہت پیچیدہ ہے اور ہم مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات میں صرف اسی صورت میں دلچسپی رکھتے ہیں جب دوسرا فریق سنجیدہ ہو، ہم امریکا پر بالکل بھی بھروسہ نہیں کرتے، موجودہ مذاکرات میں بھروسے کا فقدان ہے، امریکا کی جانب سے متضاد پیغامات موصول ہو رہے ہیں، لیکن مجھے امید ہے حکمت اور سفارتکاری کامیاب ہوں گی۔ عباس عراقچی نے کہاکہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا، 2015 کے معاہدے میں ثبوت دے چکے، ہمارا نیوکلیئر پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اور پرامن ہی رہے گا۔ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہاکہ روس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات اور اسٹریٹیجک شراکت داری ہے، گزشتہ روز روسی وزیرخارجہ کیساتھ اچھی بات چیت ہوئی، روس کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں، بین الاقوامی اور علاقے معاملے میں ہمیشہ رابطے میں رہتے ہیں، یورنیم افزودگی کی منتقلی سے متعلق روسی پیش کش کے شکر گزار ہیں، فی الحال یورنیم افزودگی کی منتقلی پر غور نہیں کیا جارہا، یورنیئم افزودگی کی منتقلی سے متعلق امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈ لاک ہے۔
