عشرہ ذوالحجہ میں کرنے کے کام
Things to do in the ten days of Dhu’l-Hijjah
ذوالحجہ كا چاند نظر آنے سے پہلے ناخن اور بال تراش لینا
Trimming nails and cutting hair before the moon of Dhu’l-Hijjah appears
🍃 عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ هِلاَلَ ذِى الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّىَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ۔ [صحيح مسلم:5234]
🍃 ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب تم ذوالحجہ کے مہینے کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اسے چاہيے کہ وہ (جانور ذبح کرنے تک) نہ اپنے جسم کے بال کاٹے اور نہ ہی ناخن تراشے۔
🍃 Umm Salama ( رضی اللہ عنہا ) narrated that the Prophet ( ﷺ ) said: When you see the moon in the month of Dhu’l-Hijjah and one of you intends to make a sacrifice, he should not cut his hair or trim his nails (until the animal is slaughtered).
گھر والوں اور بچوں کو بھی اس پر عمل کروانا
Make family members and children follow this action
🍃 عن نافع أن بن عمر مر بامرأة تأخذ من شعر ابنها في أيام العشر فقال لو أخرتيه إلى يوم النحر كان أحسن. [مستدرك حاكم:7520] موقوف صحيح
🍃 نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو عشرہ ذوالحجہ میں اپنے بیٹے کے بال کاٹ رہی تھی تو انہوں نے کہا: اگر تم اسے قربانی کے بعد تک موخر کر دیتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔
🍃Nafi’ narrates from Ibn Umar that once he passed by a woman who was cutting her son’s hair in the tenth of Dhu’l-Hijjah and he said: It would have been better if you had postponed it till after the sacrifice.
قربانی کی استطاعت نہ رکھنے والے کے لیے حکم
The ruling for those who cannot afford the sacrifice
🍃 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:” أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، قَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أُضْحِيَّةً أُنْثَى، أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ: لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَتِلْكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ”. [سنن أبي داود: 2789] إسناده صحیح
🍃 عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اضحیٰ کے دن کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ اسے بطور عید مناؤں جسے اللہ عز وجل نے اس امت کے لیے خاص کیا ہے۔“
- ایک آدمی نے کہا: فرمائیے کہ اگر مجھے دودھ کے جانور کے سوا کوئی جانور نہ ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں؟
- آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اپنے بال کاٹ لو، ناخن اور مونچھیں تراش لو اور زیر ناف کی صفائی کر لو۔ ﷲ کے ہاں تمہاری یہی کامل قربانی ہو گی۔“
Abdullah bin Amr bin al-Aas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (ﷺ) said:
"I have been commanded to observe the Day of Adha as an Eid, which Allah, عز وجل, has designated for this Ummah.”
•A man asked: "Tell me, if I find no animal other than a milk-giving animal, should I sacrifice it?”
•The Prophet (ﷺ) replied: "No. Instead, cut your hair, trim your nails and mustache, and shave your pubic hair. In the sight of Allah, this will be your complete sacrifice.”
🍃نوٹ:
- اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ اگر ذوالحجہ کے چاند سے لے کر نمازِ عید سے فارغ ہونے تک بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ تراشے تو اسے قربانی کا ثواب ملتا ہے۔
🍃 Note :
This Hadith clarifies that a person who does not have the financial means to offer a sacrifice, If they refrain from cutting their hair and trimming their nails from the sighting of the Dhul-Hijjah moon until the completion of the Eid prayer, they will attain the reward of sacrifice.
