ادب و شاعری
ساغر صدیقی

✓ لنک کاپی ہو گیا
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
کسی کے وصل کی چاہت میں عمر گزر گئی
کسی کے ہجر میں رونے کی بھی ادائی نہ تھی
یہ کیا کہ خود ہی چلے آئے ہم ترے در پر
وفا کی کوئی بھی صورت ہمیں دکھائی نہ تھی
کبھی یہ حال کہ دونوں میں یاریاں بھی نہ تھیں
کبھی یہ مرحلہ کہ بات بھی بنائی نہ تھی
