ادب و شاعری
مومن خان مومن

✓ لنک کاپی ہو گیا
پرانی کتابوں کی خوشبو میں رکھ کے مجھے
کسی نے محبت سے پھر یاد کیا دیر تک
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گلے وہ شکایتیں، وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی جو تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔
شاعر: مومن خان مومن
