وزیر اعظم۔۔۔الیکٹرک وہیکلزوزیر اعظم شہباز شریف کی الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کیلئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 4 مینوفیکچرنگ سرٹیفیکیٹ جاری ہو چکے ہیں
گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان قسطوں پر الیکٹرک بائیکس فراہم کئے جائیں گے
اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کیلئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراءڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاءاللہ تارڑ ، اویس خان لغاری ، احسن اقبال، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر ، چیئر مین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کے فروغ کیلئے تیزی سے اقدامات کیے جائیں۔ موجودہ علاقائی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے نہ صرف ایندھن کے درآمدی بوجھ میں کمی آئے گی، بلکہ یہ ماحولیاتی تحفظ اور انرجی سکیورٹی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے قومی ای -وی پالیسی کے تحت کم آمدنی والے افراد کیلئے الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر دی جانے والی سبسڈی میں شفافیت یقینی بنانے اور اس سکیم کے نفاذ میں مزید تیزی لانے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس کو الیکٹرک وہیکلز کی ملک گیر سطح پر ترویج کیلئے جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں الیکٹرک موٹر سائیکل اور رکشہ بنانے کیلئے 72 جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 4 مینوفیکچرنگ سرٹیفیکیٹ جاری ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ای وی چارجنگ سٹیشنز کے قیام کیلئے اب تک 123 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ بریفنگ کے مطابق ایسی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ آئندہ 5 سالوں میں ملک میں 30 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں جس سے اندازاً 4.5 بلین ڈالر تک فیول کی بچت ہوگی۔ بریفنگ کے مطابق گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان قسطوں پر الیکٹرک بائیکس فراہم کئے جائیں گے۔
پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز (EV) کا مستقبل: حکومتی عزائم، زمینی حقائق اور خریداروں کیلئے جامع گائیڈ
تحریر و تجزیہ: دوست نیوز ریسرچ ڈیسک
وزیر اعظم شہباز شریف کی حالیہ ہدایات اور ملک میں الیکٹرک وہیکلز (EV) کے فروغ کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پاکستان کی معیشت اور ماحولیات کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔ دوست نیوز کی اس خصوصی رپورٹ میں ہم نے اس شعبے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا ہے تاکہ قارئین کو درست سمت مل سکے۔
1. حکومتی پالیسی اور اہداف: ایک جائزہ
حکومتِ پاکستان نے "نیشنل ای وی پالیسی” کے تحت اگلے 5 سالوں میں ملک کی 30 فیصد گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔
- ایندھن کی بچت: اس پالیسی سے سالانہ تقریباً 4.5 بلین ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچانے کی توقع ہے جو پٹرول کی درآمد پر خرچ ہوتا ہے۔
- سرکاری مراعات: گریڈ 1 سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس کی فراہمی اور کم آمدنی والے افراد کیلئے سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔
- صنعتی پیش رفت: اب تک 72 الیکٹرک بائیک و رکشہ مینوفیکچررز اور 4 کار مینوفیکچررز کو لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔
2. عالمی تناظر: ہم کہاں کھڑے ہیں؟
دنیا تیزی سے گرین انرجی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چین، ناروے اور امریکہ اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔
- چین: دنیا کی 50% سے زائد ای وی مارکیٹ چین کے پاس ہے، جہاں حکومت چارجنگ انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کرتی ہے۔
- ناروے: یہاں 80% سے زائد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوتی ہیں، جس کی بڑی وجہ ٹیکس میں چھوٹ اور فری پارکنگ جیسی مراعات ہیں۔
- پاکستان کا چیلنج: پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور چارجنگ نیٹ ورک کی کمی وہ بنیادی مسائل ہیں جو ہمیں عالمی معیار سے پیچھے رکھتے ہیں۔
3. زمینی حقائق اور انفراسٹرکچر (Ground Realities)
کاغذی پالیسیوں اور عملی میدان میں ابھی کافی فاصلہ ہے:
- چارجنگ اسٹیشنز: 123 درخواستیں موصول ہونا خوش آئند ہے، لیکن موٹر ویز اور بڑے شہروں کے درمیان چارجنگ نیٹ ورک کی عدم موجودگی "رینج اینگزائٹی” (راستے میں چارج ختم ہونے کا ڈر) پیدا کرتی ہے۔
- بجلی کا ٹیرف: بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کی وجہ سے صارفین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا بجلی پر گاڑی چلانا واقعی سستا پڑے گا؟
- بیٹری کی زندگی اور ری سیل: پاکستانی مارکیٹ میں گاڑی کی ری سیل ویلیو بہت اہم ہے۔ ای وی کی بیٹری کی قیمت گاڑی کی کل قیمت کا 40% سے 50% ہوتی ہے، جس کی تبدیلی کا خرچ صارفین کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔
4. کمپنیوں کا رویہ اور مارکیٹ اپروچ
پاکستان میں کمپنیاں دو طرح کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں:
- لوکل مینوفیکچرنگ: بائیک اور رکشہ کمپنیاں مقامی سطح پر اسمبلنگ کر رہی ہیں تاکہ قیمت کم رکھی جا سکے۔
- امپورٹڈ ٹیکنالوجی: بڑی کار کمپنیاں ابھی بھی زیادہ تر پارٹس درآمد کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے ای وی کاریں عام آدمی کی پہنچ سے دور (لگژری طبقے تک محدود) ہیں۔
5. خریداروں کیلئے بہترین مشورے اور گائیڈ
اگر آپ الیکٹرک گاڑی یا بائیک لینے کا سوچ رہے ہیں، تو ان نکات پر غور کریں:
کسٹمر کیلئے بہترین مشورہ:
- بائیک پہلے، گاڑی بعد میں: اگر آپ کا سفر شہر کے اندر ہے، تو الیکٹرک بائیک ایک بہترین انتخاب ہے۔ یہ پٹرول کے مقابلے میں ماہانہ 70% سے 80% تک بچت دے سکتی ہے۔
- بیٹری کی وارنٹی چیک کریں: ہمیشہ ایسی کمپنی کا انتخاب کریں جو بیٹری پر کم از کم 3 سے 5 سال کی وارنٹی دے رہی ہو۔ "Lithium Iron Phosphate (LFP)” بیٹریاں پاکستانی موسم کیلئے زیادہ موزوں ہیں۔
- سولر سسٹم سے ہم آہنگی: اگر آپ کے گھر میں سولر سسٹم لگا ہے، تو ای وی آپ کیلئے "فری رائیڈ” ثابت ہوگی۔
حکومتی پالیسی سے فائدہ کیسے اٹھائیں؟
- سرکاری سکیمیں: گریڈ 16 تک کے ملازمین اپنی وزارت یا محکمے کے ذریعے جاری کردہ آسان اقساط کے فارمز کا انتظار کریں اور فوری اپلائی کریں۔
- رجسٹریشن میں رعایت: کئی صوبوں میں ای وی کی رجسٹریشن فیس ٹوکن ٹیکس میں بھاری رعایت دی گئی ہے، گاڑی خریدتے وقت اس کا کلیم ضرور کریں۔
- بینک فنانسنگ: گرین بینکنگ کے تحت کئی بینک ای وی کیلئے کم شرح سود (Mark-up) پر قرضے دے رہے ہیں، ان سے رجوع کریں۔
نتیجہ (دوست نیوز تجزیہ)
پاکستان میں ای وی کا انقلاب ناگزیر ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار صرف مراعات پر نہیں بلکہ چارجنگ اسٹیشنز کے جال اور سستی بجلی پر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی پر منتقل کرے تاکہ عام آدمی کو فوری ریلیف مل سکے۔
دوست نیوز – تحقیق سے آگاہی تک
