دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
” حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن میرے ایک امتی کو پکارا جائے گا ، اس کے 99 رجسٹر کھولے جائیں گے ۔ ہر رجسٹر حدِنگاہ تک لمبا ہو گا پھر اس سے کہا جائے گا : کیا تجھے ان میں سے کسی عمل کا انکار ہے ؟ وہ کہے گا : اے میرے رب نہیں ۔ پھر اس سے کہا جائے گا : کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا ( شاید یہ کہا جائے گا کہ کیا تیرے پاس کوئی ) نیکی ہے ؟ تو وہ شخص ہیبت زدہ ہو جائے گا اور بولے گا : اے میرے رب نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیوں نہیں ۔ ہمارے پاس تیری نیکیاں موجود ہیں اور آج تیرے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس کے اوپر لکھا ہو گا :’’ «اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمدا عبدہ ورسولہ» ‘‘ بندہ کہے گا : یا اللہ ! ان بڑے بڑے رجسٹروں کے مقابلے میں اس ایک پرچے کی کیا حیثیت ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ پھر ایک پلڑے میں تمام رجسٹر رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا تو تمام رجسٹر ہلکے ہوں گے اور وہ ایک پرچہ ان سب پر بھاری ہو جائے گا ۔
٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔”
Al Mustadrak Hakim#1937
یہ تحریر اس مشہور اور ایمان افروز حدیثِ مبارکہ کی تشریح پر مبنی ہے جسے علمِ حدیث میں "حدیثِ بطاقہ” (پرچے والی حدیث) کہا جاتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں اللہ کی رحمت، توحید کی طاقت اور اخلاص کی اہمیت کا سبق دیتی ہے۔
حدیثِ بطاقہ: توحید کی عظمت اور اللہ کی بے پایاں رحمت
قیامت کا دن وہ ہولناک دن ہوگا جب انسان اپنے اعمال کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوگا اور ہر شخص نفسی نفسی کے عالم میں نجات کا راستہ تلاش کر رہا ہوگا۔ ایسے میں رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیثِ مبارکہ ایک مایوس گناہگار کے لیے امید کی وہ کرن ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کو واضح کرتی ہے۔
1. میدانِ محشر کا منظر اور 99 رجسٹر
اس حدیث میں ایک ایسے شخص کا تذکرہ ہے جس نے اپنی زندگی گناہوں میں گزاری۔ جب وہ اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا تو اس کے سامنے 99 رجسٹر کھولے جائیں گے۔ یہ محض عام رجسٹر نہیں ہوں گے، بلکہ ان میں سے ایک ایک رجسٹر اتنا طویل ہوگا کہ جہاں تک انسانی نظر پہنچتی ہے، وہاں تک وہ گناہوں سے بھرا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ اس بندے سے پوچھے گا: "کیا تجھے ان اعمال کا انکار ہے؟ کیا میرے کاتبین (فرشتوں) نے تجھ پر کوئی ظلم کیا ہے؟” بندہ اعتراف کرے گا کہ "اے میرے رب! یہ سب سچ ہے، میں نے یہ گناہ کیے ہیں۔” یہ وہ مقام ہوگا جہاں بندہ مکمل طور پر مایوس ہو چکا ہوگا کہ اب اس کی نجات کا کوئی راستہ باقی نہیں۔
2. اللہ کا کرم اور وہ ‘خفیہ’ نیکی
جب بندہ اپنی بربادی کا یقین کر لے گا، تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: "ہمارے پاس تیری ایک نیکی محفوظ ہے، اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔” پھر ایک چھوٹا سا پرچہ (بطاقہ) نکالا جائے گا جس پر کلمہ شہادت "اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمدا عبدہ ورسولہ” درج ہوگا۔
وہ بندہ حیرت زدہ ہو کر عرض کرے گا: "یا اللہ! ان 99 طویل رجسٹروں کے مقابلے میں اس چھوٹے سے پرچے کی کیا حیثیت ہے؟” لیکن اللہ کا فیصلہ حتمی ہوگا کہ آج ناانصافی نہیں ہوگی۔
3. پلڑے کا جھکنا: کلمے کا وزن
میزانِ عدل (ترازو) لایا جائے گا۔ ایک پلڑے میں وہ 99 رجسٹر رکھے جائیں گے جن میں گناہوں کے پہاڑ درج تھے، اور دوسرے پلڑے میں وہ ننھا سا پرچہ جس پر کلمہِ توحید لکھا ہوگا۔ جیسے ہی پرچہ رکھا جائے گا، گناہوں کے تمام رجسٹر ہوا میں اڑ جائیں گے یا بالکل ہلکے پڑ جائیں گے، اور وہ کلمہ والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔
اس حدیث سے ملنے والے اہم اسباق
الف: توحید کی طاقت (The Power of Tawheed)
اس کائنات میں کوئی بھی چیز اللہ کے نام اور اس کی وحدانیت کے اقرار سے زیادہ وزنی نہیں ہے۔ یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ "لا الہ الا اللہ” کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے جو گناہوں کے سمندر کو خشک کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ کلمہ پڑھنا دراصل اللہ سے وفاداری کا وہ عہد ہے جو باقی تمام خطاؤں پر غالب آ جاتا ہے۔
ب: اخلاص کی اہمیت (The Value of Sincerity)
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے: کلمہ تو بہت سے لوگ پڑھتے ہیں، لیکن اس شخص کا کلمہ کیوں بھاری پڑ گیا؟ محدثین فرماتے ہیں کہ اس بندے نے وہ کلمہ انتہائی صدقِ دل اور اخلاص کے ساتھ پڑھا ہوگا۔ اس کے دل میں اللہ کی بڑائی اور اس کی وحدانیت کا ایسا یقین ہوگا جس نے اس کے تمام گناہوں کے اثر کو زائل کر دیا۔ عمل کی مقدار سے زیادہ اس کی کیفیت (Quality) اہم ہوتی ہے۔
ج: مایوسی کا خاتمہ
یہ حدیث گناہگاروں کو توبہ کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ چاہے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ انسان کو کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بشرطیکہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے۔
عملی لائحہ عمل (Actionable Steps)
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا کلمہ بھی قیامت کے دن ہمارے گناہوں پر بھاری پڑے، تو ہمیں درج ذیل امور پر توجہ دینی چاہیے:
- ایمان کی تجدید: روزانہ شعوری طور پر کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھیں، صرف زبان سے نہیں بلکہ دل کے یقین کے ساتھ۔
- شرک سے اجتناب: کلمے کا وزن تبھی برقرار رہتا ہے جب انسان شرک (اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے) سے مکمل پاک ہو۔
- اخلاص پیدا کرنا: اپنی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ اخلاص ہی عمل کو وزنی بناتا ہے۔
- کثرتِ ذکر: "لا الہ الا اللہ” کا ورد اپنی زبان پر جاری رکھیں، کیونکہ یہ وہ ذکر ہے جس کے سامنے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
حاصلِ کلام (Result)
حدیثِ بطاقہ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غفور و رحیم ہے۔ وہ اپنے بندوں کو بخشنے کے بہانے تلاش کرتا ہے۔ ایک سچا مومن وہی ہے جو اپنے ایمان (کلمے) کی ایسی آبیاری کرے کہ کل قیامت کے دن اس کا یہی ایمان اس کی نجات کا سب سے بڑا ذریعہ بن جائے۔ گناہ چاہے حدِ نگاہ تک پھیلے ہوں، اللہ کا ایک نام ان سب کو مٹانے کے لیے کافی ہے۔
حوالہ جات: یہ حدیث جامع ترمذی (2639)، سنن ابن ماجہ (4300) اور مستدرک الحاکم میں موجود ہے، اور اس کی اسناد کو امام حاکم اور علامہ البانی رحمہما اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
