سری لنکا اور پاکستان کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات مستحکم بنانے پر زور
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) فریڈ سنیوی رتنے نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) میں منعقدہ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری میں ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اہم نکات
- سری لنکن ہائی کمشنر نے پاکستانی تاجروں کو سری لنکا میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
- لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے باہمی تجارت کے فروغ کے لیے تجارتی وفود کے تبادلے کی تجویز دی۔
- دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے سنگل کنٹری نمائشوں کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے۔
- پاکستان اور سری لنکا کی کاروباری برادریوں کے مابین براہ راست روابط (B2B) سے معاشی شراکت داری مستحکم ہوگی۔
پاکستانی اور سری لنکن تاجروں کے لیے تجارتی مواقع
لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان خوشگوار تعلقات دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کو تجارتی وفود کا تبادلہ کرنا چاہیے تاکہ تاجر ایک دوسرے کی مارکیٹوں کو سمجھ سکیں، ممکنہ شراکت داروں کی نشاندہی کر سکیں اور جدید کاروباری امکانات تلاش کر سکیں۔ صدر لاہور چیمبر نے مزید کہا کہ دونوں ممالک میں ‘سنگل کنٹری نمائشوں’ کا انعقاد کیا جائے جس سے مصنوعات، خدمات اور سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا جا سکے اور کمپنیاں براہ راست کاروباری رابطے قائم کر سکیں۔ انہوں نے لاہور کی بطور تجارتی مرکز اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکن کمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے لاہور سے بہتر جگہ نہیں مل سکتی۔
معاشی استحکام کے لیے چیمبر سے چیمبر تعاون

لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی اور نائب صدر چودھری خادم حسین نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا اور پاکستان-سری لنکا معاشی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بی ٹو بی رابطوں کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ باہمی دلچسپی کے شعبوں میں دیرپا تجارتی شراکت داریاں قائم کی جا سکیں۔ اس موقع پر سری لنکا کے اعزازی قونصل یاسین جویا، سابق نائب صدور میاں زاہد جاوید اور حارث عتیق کے علاوہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین بشمول ہما جنید، شہزاد علی شاہ، محمد علی، شہزاد محمود، مردان علی زیدی، چودھری ذوالفقار علی، عامر عطا باری، سید یوسف جمیل، علی رضا، عدیل بابر خان اور چودھری محمد فرغام بھی موجود تھے۔
اہم سوالات و جوابات
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے کیا تجاویز دی گئی ہیں؟
لاہور چیمبر کے صدر نے تجارتی وفود کے تبادلے اور دونوں ممالک میں سنگل کنٹری نمائشوں کے انعقاد کی تجویز دی ہے تاکہ براہ راست کاروباری روابط قائم ہو سکیں۔
سری لنکن ہائی کمشنر نے کیا پیغام دیا ہے؟
انہوں نے پاکستانی کاروباری برادری کو دعوت دی کہ وہ سری لنکا میں سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کو معاشی تعاون میں بدلیں۔
