قدرتی آفات سے انسانی جانوں کا ضیاع لمحہ فکریہ ہے، مصدق ملک
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے انسانی جانوں کا ضیاع لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ جدید خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائنسی معلومات اور پیشگی وارننگ کے نظام کی موجودگی کے باوجود نقصانات کا تسلسل جاری ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کو خلائی ٹیکنالوجی برائے ارلی وارننگ، کلائمیٹ ایکشن اور ڈیزاسٹر رسک اسیسمنٹ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اہم نکات
- جدید سائنسی ٹیکنالوجی اور پیشگی وارننگ کے نظام کے باوجود انسانی جانوں کا ضیاع تشویشناک ہے۔
- صرف وارننگ جاری کرنا کافی نہیں بلکہ اس کا بروقت متاثرہ افراد تک پہنچنا اور فالو اپ ضروری ہے۔
- کراچی ہیٹ ویو میں 4600 اموات اس بات کا ثبوت ہیں کہ معلومات کے باوجود تدارک میں کمی ہے۔
- عمارتوں کی ناقص تعمیر، غلط زوننگ اور ناقص نکاسی آب تباہی کی بڑی وجوہات ہیں۔
- ڈیجیٹل ماڈلنگ اور سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے مستقبل کے خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہے۔
وفاقی وزیر نے کراچی میں ہیٹ ویو سے ہونے والی 4600 اموات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ہیٹ ویو کے مقام اور شدت کے بارے میں سائنس کے پاس درست معلومات موجود تھیں تو اتنی بڑی تعداد میں انسانی جانیں کیوں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے مسائل کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ جس طرح اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پتے کا آپریشن جیسے طبی معجزات ممکن ہیں، اسی طرح سائنس قدرتی خطرات کی باریک ترین تفصیلات بھی سامنے لا سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی کا موثر استعمال اور ذمہ داری
مصنوعی ذہانت (AI) کے کردار پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب ایسے پیچیدہ کام بھی انجام دے سکتی ہے جن کے لیے پہلے سپر کمپیوٹرز کو کئی دن درکار ہوتے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے پاس سائنسی صلاحیت اور معلومات موجود ہونے کے باوجود ان کا موثر تدارک نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی وارننگ جس کا کسی مخصوص شخص یا علاقے سے تعلق نہ ہو، وہ دراصل کسی کے لیے بھی کارآمد نہیں ہوتی۔
تعمیراتی معیار اور ڈیجیٹل ماڈلنگ
وزیر موسمیاتی تبدیلی نے مزید کہا کہ عمارتوں کی چھتیں گرنا محض حادثہ نہیں بلکہ ناقص تعمیرات اور غلط زوننگ کا نتیجہ ہے۔ جس طرح سی ڈی اے کی جانب سے حالیہ عرصے میں ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کے لیے اسلام آباد کے تجارتی مراکز کی بحالی کا کام جاری ہے، اسی طرح قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بھی سخت نگرانی ضروری ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے زور دیا کہ ہم اپنے سیلابی علاقوں کے ڈیجیٹل ٹوئن کیوں نہیں بنا سکتے؟ انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا حقائق پر مبنی ہوتا ہے، لہذا ہمیں جدید خلائی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نقشہ سازی سے استفادہ کرتے ہوئے سیلابی علاقوں میں تباہی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔
اہم سوالات و جوابات
قدرتی آفات سے جانیں کیوں ضائع ہو رہی ہیں؟
وفاقی وزیر کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پیشگی وارننگ کا نظام موجود ہونے کے باوجود اسے بروقت متاثرہ افراد تک نہیں پہنچایا جاتا اور نہ ہی خطرات سے بچاؤ کے لیے موثر فالو اپ کیا جاتا ہے۔
تعمیراتی شعبے میں کس قسم کی خامیاں تباہی کا سبب بنتی ہیں؟
عمارتوں کی ناقص تعمیر، غلط زوننگ اور سڑکوں پر پانی کے بہاؤ کے ناقص انتظام جیسے عوامل قدرتی آفات کے دوران بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
