مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 21°C
منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 417,691 PKR Bitcoin $80,350 USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 417,691 PKR Bitcoin $80,350
قومی

پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سینیٹ اجلاس میں مصنوعی ذہانت سے متعلق حکومتی اقدامات پر گفتگو کر رہے ہیں۔
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے اور حکومت انسانی وسائل کی ترقی، تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ منگل کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران ایوان بالا میں سینیٹر محمد اعظم خان سواتی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے متعلقہ اداروں اور محکموں کی تفصیلات مرتب کر رکھی ہیں، جبکہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت بڑے پیمانے پر کام جاری ہے۔

اہم نکات

  • پاکستان تیزی سے مصنوعی ذہانت کی جانب بڑھتے ہوئے عالمی ترقی کے عمل کا حصہ بن رہا ہے۔
  • حکومت انسانی وسائل کی ترقی اور استعداد کار بڑھانے کے لیے وظائف اور تربیتی پروگرامز پر کام کر رہی ہے۔
  • مصنوعی ذہانت کے ممکنہ منفی اثرات کے باوجود، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ناگزیر ہے۔

پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا فروغ اور حکومتی اقدامات

وفاقی وزیر نے ایوان کو یقین دلایا کہ سینیٹر محمد اعظم خان سواتی کو وظائف اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے متعلق اعداد و شمار کی مکمل تفصیلات فراہم کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کاروباری آسانیوں کیلئے وفاقی اور صوبائی قوانین میں ہم آہنگی ناگزیر ہے، اسی طرح ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کا کردار بڑھ رہا ہے اور اگرچہ اس سے بعض شعبوں میں انسانی کردار کم ہو سکتا ہے، تاہم پاکستان اس عالمی ارتقا سے الگ نہیں رہ سکتا۔

مصنوعی ذہانت کے فوائد اور چیلنجز

ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے متعلق سوال پر انہوں نے موبائل فون کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہر ایجاد کے فوائد کے ساتھ کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم ترقی کی دوڑ سے پیچھے ہٹ جائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ایف پی سی سی آئی کی جانب سے معاشی پالیسیوں پر تحفظات کے تناظر میں ٹیکنالوجی کے شعبے کو ترجیح دے گی تاکہ اس کے مثبت اثرات کو فروغ اور منفی پہلوؤں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ ملک میں جدید رجحانات کے فروغ کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں کی جا رہی ہیں، جیسے کہ پاکستانی طلبہ کے لیے اسپین کی آئی ای یونیورسٹی کے تعلیمی مواقع کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جا رہا ہے۔

اہم سوالات و جوابات

کیا حکومت مصنوعی ذہانت کے لیے کوئی پالیسی اپنا رہی ہے؟

جی ہاں، وفاقی وزیر کے مطابق حکومت بڑے پیمانے پر انسانی وسائل کی ترقی کے لیے قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت کام کر رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے منفی اثرات سے کیسے نمٹا جائے گا؟

حکومت کا موقف ہے کہ فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے مناسب کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ معاشرتی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں