ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں اضافے کو مسترد کر دیا
کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے پالیسی ریٹ میں مزید 0.5 فیصد اضافے پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد شرح سود 12 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس اقدام کو ملکی صنعت اور تجارت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا ہے۔
اہم نکات
- صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے پالیسی ریٹ میں اضافے کو معاشی استحکام کی کوششوں کے منافی قرار دیا ہے۔
- ایف پی سی سی آئی کا مطالبہ ہے کہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ تک لایا جائے تاکہ صنعتی ترقی ممکن ہو سکے۔
- ایف پی سی سی آئی کے مطابق مہنگائی کی وجہ مالیاتی نہیں بلکہ ساختی مسائل اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔
پالیسی ریٹ میں اضافہ کیوں تشویشناک ہے؟
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ ایک ایسے نازک موڑ پر جب کاروباری اداروں کو سستے قرضوں اور معاشی محرک کی اشد ضرورت ہے، سخت مانیٹری پالیسی نجی شعبے کی نمو کو دبا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کار پہلے ہی بجلی اور گیس کے ٹیرف میں اضافے اور آپریشنل اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ موجودہ بلند شرح سود نے قرض لینے کو ایک ناقابل برداشت مالی بوجھ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے سود کی شرح بڑھانے کا موجودہ طریقہ کار غیر مؤثر ہے کیونکہ مہنگائی کی اصل وجوہات سپلائی چین میں رکاوٹیں اور فیڈرل گورنمنٹ کی پالیسیاں ہیں۔
کیا پالیسی ریٹ میں کمی سے معیشت بہتر ہو سکتی ہے؟
ایف پی سی سی آئی کا موقف ہے کہ سنگل ڈیجٹ شرح سود چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) اور بڑی صنعتوں کے لیے ناگزیر ہے۔ سستی فنانسنگ کے بغیر مقامی صنعتیں ٹیکنالوجی کو جدید بنانے یا عالمی منڈیوں میں علاقائی حریفوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہ سکتیں۔
آخر میں، ایف پی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل بریگیڈیئر (ر) افتخار اوپل نے زور دیا کہ وفاقی حکومت اور اقتصادی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ معاشی فیصلوں سے قبل کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کو ادارہ جاتی شکل دیں۔ ایک پرو-گروتھ مانیٹری پالیسی ہی قومی معیشت کو جمود سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
اہم سوالات و جوابات
ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک کے حالیہ فیصلے پر کیا ردعمل دیا؟
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے پالیسی ریٹ میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملکی صنعت اور برآمدی مسابقت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی نے حکومتی پالیسی سازوں سے کیا مطالبہ کیا ہے؟
ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ شرح سود کو فوری طور پر سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے اور پالیسیوں کے نفاذ سے قبل تاجر برادری سے جامع مشاورت کی جائے۔
