مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 415,753 PKR Bitcoin $79,826 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 415,753 PKR Bitcoin $79,826
قومی

سربیا میں طلبہ کی تحریک نے تاریخ رقم کردی، انتخابات میں بڑی کامیابی، صدر الیگزینڈر ووچیچ کو سیاسی شکست

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

سربیا میں طلبہ کی تحریک نے تاریخ رقم کردی، انتخابات میں بڑی کامیابی، صدر الیگزینڈر ووچیچ کو سیاسی شکست

*بلغراد: سربیا میں تقریباً دو سال سے جاری طلبہ کی احتجاجی تحریک نے انتخابی میدان میں بھی بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ طلبہ کی حمایت یافتہ انتخابی تحریک نے پارلیمانی انتخابات میں بھاری برتری حاصل کرلی، جبکہ طویل عرصے سے سربیا کی سیاست پر اثرورسوخ رکھنے والے صدر الیگزینڈر ووچیچ کے سیاسی اتحاد کو بڑا دھچکا لگا ہے۔*

25 اکتوبر کو ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق طلبہ کی حمایت یافتہ انتخابی فہرست کو 250 رکنی پارلیمنٹ میں 135 سے 140 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ صدر ووچیچ کی سربین پروگریسو پارٹی (SNS) تقریباً 105 نشستوں تک محدود ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات کے بعد صدر الیگزینڈر ووچیچ نے اپنی سیاسی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سیاسی اتحاد انتخابات ہار چکا ہے اور طلبہ کی تحریک نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انتخابی کامیابی کے بعد بلغراد سمیت مختلف شہروں میں شہریوں اور طلبہ نے جشن منایا۔

سربیا میں طلبہ کی احتجاجی تحریک کا آغاز نومبر 2024 میں شہر نووی ساد کے ریلوے اسٹیشن کی چھت کا ایک حصہ گرنے کے المناک حادثے کے بعد ہوا تھا، جس میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ طلبہ نے اس حادثے کو مبینہ حکومتی بدعنوانی، ناقص تعمیراتی نگرانی اور انتظامی ناکامیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا تھا۔

ابتدا میں یہ احتجاج حادثے کی تحقیقات اور احتساب تک محدود تھا، تاہم بعد ازاں یہ ملک گیر حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ساتھ اساتذہ، پروفیسرز اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری بھی تحریک کا حصہ بن گئے۔ مظاہرین نے بدعنوانی کے خاتمے، حکومتی شفافیت اور جمہوری اداروں کی آزادی کے مطالبات اٹھائے۔

صدر الیگزینڈر ووچیچ 2014 سے سربیا کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ پہلے وزیراعظم اور بعد ازاں صدر کے عہدے پر فائز رہے اور ان کی جماعت طویل عرصے سے ملک کی حکمران سیاسی قوت تھی۔ طلبہ کی انتخابی کامیابی کو ان کے سیاسی اقتدار کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ بھی غیر معمولی رہا، جسے طلبہ تحریک کی عوامی مقبولیت اور سیاسی تبدیلی کی خواہش کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی رہنماؤں نے بھی سربیا میں جمہوری اصلاحات، قانون کی حکمرانی اور اداروں کی آزادی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

سربیا میں طلبہ کی تحریک کی کامیابی کو اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ ایک عوامی احتجاج نے روایتی سیاسی میدان میں داخل ہوکر برسوں سے قائم حکومتی سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کردیا۔ اب نئی قیادت کے سامنے بدعنوانی کے خاتمے، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی مطالبات پر عمل درآمد کا بڑا امتحان ہوگا۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں