مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 415,753 PKR Bitcoin $79,826 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 415,753 PKR Bitcoin $79,826
قومی

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0

📅 ✍️ ⏱ 5 منٹ
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کر دیا، شرح سود 12 فیصد مقرر

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس (0.50 فیصد) اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دیا ہے۔ نئی شرح سود کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود بڑھانے کا فیصلہ 10 میں سے 9 ارکان کی اکثریت سے کیا گیا۔ کمیٹی نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کی شدت میں اضافے اور مستقبل قریب میں اس کے خاتمے کے امکانات کم ہونے کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو مہنگائی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق عالمی حالات کے اثرات اب تک پاکستان کی معیشت پر محدود رہے ہیں، تاہم جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے مہنگائی کے مستقبل کے امکانات کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تشویشناک بنا دیا ہے۔ شرح سود میں اضافے کا مقصد مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنا، توانائی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات کو روکنا اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ستمبر 2026 میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو کمیٹی کی توقعات سے زیادہ ہے، جبکہ بنیادی مہنگائی بھی تقریباً 8.4 فیصد کی بلند سطح پر برقرار ہے۔ توانائی، گندم اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کو بلند رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کمیٹی کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں مزید بگاڑ، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی کے نرخوں میں ممکنہ اضافے اور گندم کی قیمتوں میں مزید اضافے سے مہنگائی کے دباؤ میں شدت آ سکتی ہے۔

معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالی سال 2027 کے آغاز سے معیشت میں بتدریج بحالی کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔ جولائی اور اگست کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سیمنٹ اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی اور دیگر معاشی اشاریے بھی بہتری کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2027 کے دوران پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد کے سابقہ تخمینے کے اندر رہنے کی توقع ظاہر کی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس ہدف کو خطرات لاحق ہیں۔

بیرونی شعبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں جاری کھاتے کا خسارہ 874 ملین ڈالر رہا۔ چاول، اعلیٰ قدر کی ٹیکسٹائل مصنوعات اور خدمات کی برآمدات میں بہتری آئی ہے، جبکہ ترسیلات زر بھی مستحکم رہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔

مالیاتی شعبے میں ایف بی آر نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیکس وصولیوں کے مقررہ ہدف سے 33 ارب روپے زیادہ جمع کیے، جبکہ ٹیکس وصولیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق سرکاری اخراجات پر قابو اور مرکزی بینک کے منافع کی منتقلی کے باعث پہلی سہ ماہی میں مجموعی مالیاتی اور بنیادی بجٹ دونوں سرپلس رہنے کا تخمینہ ہے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے زور دیا کہ معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس نیٹ میں توسیع، بیرونی اور مالیاتی ذخائر میں اضافے اور ساختی اصلاحات پر عمل درآمد ضروری ہے۔ کمیٹی کے مطابق محتاط مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کے تسلسل سے ہی پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد مضبوط ہو سکتی ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں