مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
اتوار، 25 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,472 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,472
قومی

ایران پر حملے کے لیے تیار ہیں، امریکی فوجی حکام

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
ایران پر حملے کے لیے تیار ہیں، امریکی فوجی حکام
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

ایران پر حملے کے لیے تیار ہیں، امریکی فوجی حکام

واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن پر بھاری جنگی ہتھیاروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کرنے والے بنکر بسٹر بموں کی ترسیل جاری ہے، جبکہ امریکی بحریہ کے اعلیٰ حکام نے ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے مکمل تیاری کا اعلان کیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس کے صحافیوں نے بحیرہ عرب میں تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کا دورہ کیا، جہاں جنگی طیاروں کی پروازوں، لینڈنگ اور بھاری ہتھیاروں کی منتقلی کا مشاہدہ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاز پر ایسے بم اور میزائل بھی پہنچائے جا رہے ہیں جو مضبوط زیرِ زمین فوجی تنصیبات اور اہم اسٹریٹجک اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی بحریہ کے کمانڈر برائن گارشیا نے بتایا کہ ممکنہ نئے فوجی مشن کے لیے اضافی اسلحہ اور سازوسامان جمع کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ کسی بھی نئی ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے تیار ہے۔

یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے کمانڈنگ آفیسر کیپٹن نکولس ڈی لیو نے کہا کہ امریکی فورسز خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر دفاعی ردعمل کے ساتھ پیشگی کارروائی کے لیے بھی تیار ہیں۔

دوسری جانب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ خطے میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑوں، میزائل بردار جنگی جہازوں اور میرینز کی اضافی تعیناتی سے ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے امریکی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف نئے فوجی آپریشن کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ان میں ایران کی جوہری تنصیبات، فوجی انفراسٹرکچر اور اہم اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ حملے کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

ادھر امریکی انٹیلی جنس نے ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے خطرات سے بھی خبردار کیا ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب سمیت خطے میں امریکی سفارتی عملے کی سیکیورٹی کے حوالے سے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 3 نومبر 2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا امکان خارج از امکان نہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی ٹائم فریم سامنے نہیں آیا۔

اگر امریکہ نے ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے پر حملہ کیا تو اس کے اثرات صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آبنائے ہرمز، خلیجی ممالک کی سلامتی، عالمی تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں