مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
اتوار، 25 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,677 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,677
قومی

مکہ دفاعی معاہدہ 2026: پاکستان سعودی عرب ترکیہ اتحاد میں پیش رفت

📅 ✍️ ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اگست میں طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدہ 2026 کے بعد اکتوبر میں اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو فعال بنانے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ پاکستان کی سرکاری اطلاعات کے مطابق مشترکہ دفاعی تعاون کے لیے ریاض میں سیکریٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود کو اس اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل نامزد کیا گیا ہے۔

اہم نکات

  • پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔
  • معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
  • ریاض میں مشترکہ سیکریٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے جس کے پہلے سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہوں گے۔
  • صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد کسی کے خلاف محاذ بنانا نہیں بلکہ علاقائی امن ہے۔

مکہ دفاعی اتحاد اور اسٹریٹجک صورتحال

تینوں ممالک نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اس کی بنیادی شق یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اسلام آباد نے معاہدے کو خالصتاً دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں بنایا گیا۔ یہ پیش رفت عالمی معدنیات کی دوڑ میں پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ خطے میں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم ہے۔

مشترکہ دفاع اور علاقائی سلامتی

اکتوبر کے آغاز میں اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں خطے کی سکیورٹی صورت حال اور مشترکہ دفاعی تعاون پر گفتگو ہوئی۔ 13 اکتوبر کو ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری سے نامزد سیکریٹری جنرل نعمان محمود کی ملاقات ہوئی۔ ایوانِ صدر کے بیان کے مطابق صدر نے کہا کہ اتحاد کا مقصد علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے اور اسے نیا محاذ یا بلاک تشکیل دینے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ جیسا کہ حال ہی میں آر ڈی اے کے مالیاتی و انتظامی امور کو ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت دی گئی، اسی طرح دفاعی سطح پر بھی جدید ٹیکنالوجی اور رابطہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔

اس پیش رفت کا پس منظر سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ہے۔ 16 اکتوبر کو نئے سعودی سفیر سے ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی خودمختاری اور سلامتی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور حملوں کی شدید مذمت کی۔ یہ اقدام پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم نکات میں شامل ہے، جس پر عمل درآمد کے لیے حکومت وزیراعظم محمد شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 160 ارب روپے کا اعلان جیسے عوامی فلاحی امور کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کو بھی ترجیح دے رہی ہے۔

دفاعی معاہدے کے چیلنجز

دفاعی معاہدے کے عملی اثرات پر کئی سوالات اب بھی اہم ہیں: مشترکہ فیصلہ سازی کیسے ہوگی، دفاعی صلاحیتوں کا استعمال کس قانونی طریقہ کار کے تحت ہوگا اور ہر ملک کے داخلی آئینی تقاضے کس طرح پورے کیے جائیں گے؟ ان سوالات کے جواب معاہدے کے عملی نفاذ کی نوعیت واضح کریں گے۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب کی سلامتی محض دفاعی معاملہ نہیں بلکہ اقتصادی اور انسانی اہمیت بھی رکھتی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں پاکستانی شہری مملکت میں مقیم اور برسرِ روزگار ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد نے ایران سمیت تمام علاقائی ممالک کے ساتھ سفارتی روابط اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت برقرار رکھی ہے۔ ماہرین کے لیے اصل توجہ اس امر پر ہوگی کہ تین ملکی دفاعی تعاون کشیدگی کم کرنے، مؤثر دفاعی رابطہ کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری میں کس حد تک معاون ثابت ہوتا ہے۔

اہم سوالات و جوابات

مکہ دفاعی معاہدہ کا مقصد کیا ہے؟

اس معاہدے کا بنیادی مقصد علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے اور اس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک پر تصور کیا جائے گا۔

اس دفاعی اتحاد کا سیکریٹریٹ کہاں قائم کیا جا رہا ہے؟

مشترکہ دفاعی تعاون کو منظم کرنے کے لیے ریاض میں سیکریٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے، جس کے پہلے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود ہیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں