مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,300 PKR Bitcoin $79,982 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,300 PKR Bitcoin $79,982
قومی

مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی نئی پیش رفت

📅 ✍️ ⏱ 5 منٹ
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ریاض میں مشترکہ سیکریٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے جس سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی تعلقات مستحکم ہوں گے۔
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک اہم موڑ پر داخل ہو گیا ہے جس کی توثیق کا عمل جاری ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے 23 اکتوبر 2026 کو ہونے والی اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے قانونی طریقۂ کار کے مطابق معاہدے کی توثیق مکمل کر چکے ہیں، جبکہ ترکیہ میں اس کی پارلیمانی منظوری کا عمل جاری ہے۔ اس پیش رفت نے تین ملکی مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں سے متعلق جاری بحث کو مزید اہمیت دے دی ہے۔

اہم نکات

  • پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں اس سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
  • لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو ریاض میں قائم ہونے والے مشترکہ سیکریٹریٹ کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
  • معاہدے کے تحت کسی بھی بیرونی حملے کی صورت میں امداد کا حجم اور نوعیت تینوں ممالک مشترکہ جائزے کے بعد طے کریں گے۔
  • صدر آصف علی زرداری نے معاہدے کو خالصتاً دفاعی قرار دیتے ہوئے اسے خطے میں امن اور استحکام کا ذریعہ بتایا ہے۔

مکہ دفاعی معاہدہ اور علاقائی سلامتی کا تناظر

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ مکہ دفاعی معاہدہ اجتماعی دفاع، دفاعی صلاحیت میں بہتری اور علاقائی استحکام کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت دفاعِ خود اختیاری کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ ترکیہ کی پارلیمان میں پیش کیے گئے متن کے بعد خصوصاً کسی ایک فریق پر بیرونی مسلح حملے کی صورت میں دیگر ممالک کی ذمہ داریوں پر اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دفتر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ اس کا مطلب خودکار اور یکساں فوجی ردعمل نہیں ہوگا بلکہ فیصلہ سازی میں تمام قانونی اور آئینی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

مشترکہ سیکریٹریٹ کا قیام اور مستقبل کا لائحہ عمل

اگست 2026 کے اواخر میں استنبول میں ہونے والے وزرائے خارجہ و دفاع کے اجلاس میں دفاعی تعاون کو مستقل ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق ہوا تھا۔ پانچ اکتوبر 2026 کو ریاض میں اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کی بطور سیکریٹری جنرل تقرری کی منظوری دی۔ اس کمیٹی نے سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش خطرات بالخصوص مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی سخت مذمت کی۔ یاد رہے کہ پاکستان ان دنوں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی مصروفیات اور دیگر خارجہ امور کے ذریعے خطے میں متوازن سفارتی تعلقات استوار کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

اقتصادی اور دفاعی تعاون کی اہمیت

اس سہ فریقی اشتراک کی ایک نمایاں جہت اقتصادی تعاون بھی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان افرادی قوت، ترسیلات زر اور توانائی کے شعبوں میں گہرے روابط قائم ہیں۔ ترکیہ کے ساتھ دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون اس معاہدے کی افادیت کو مزید بڑھاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد کے لیے یہ بڑا امتحان ہے کہ وہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مضبوط کرتے ہوئے ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی مکالمے کے دروازے بھی کھلے رکھے۔

اہم سوالات و جوابات

مکہ دفاعی معاہدے کا اصل مقصد کیا ہے؟

اس معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع، دفاعی صلاحیت میں بہتری اور علاقائی استحکام کو یقینی بنانا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور کے عین مطابق ہے۔

کیا کسی ملک پر حملے کی صورت میں تینوں ممالک فوری فوجی کارروائی کریں گے؟

نہیں، کسی بھی حملے کی صورت میں امداد کی نوعیت اور حجم تینوں ممالک حالات کا مشترکہ جائزہ لے کر طے کریں گے، جس میں قانونی اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں