پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نکالنے کیلئے عزم درکار ہے، محمد علی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نکالنے اور مستقبل میں مزید مضبوط بنانے کے لیے عزم، صبر اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ جمعرات کو یہاں سی ای او سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک نے اپنی اصل طاقت کو پہچان کر اور طویل مدتی پالیسیوں کے ذریعے شاندار ترقی حاصل کی ہے۔ ترقی کا اصل راز ایک لفظ ’اعتماد‘ میں پوشیدہ ہے، جو ہمیں درست سمت کا تعین اور کامیابی کا لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔
معاشی ترقی کیلئے پانچ بنیادی امتحانات
مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ کسی بھی شعبہ کو آگے بڑھانے سے پہلے 5 بنیادی امتحانات سے گزرنا ہوگا جن میں مارکیٹ کی طلب، روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کا حصول شامل ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے تین اہم شعبے جو تمام معیار پر پورا اترتے ہیں ان میں زراعت اور ایگری پروسیسنگ، ٹیکسٹائل و ملبوسات اور آئی ٹی و ڈیجیٹل سروسز شامل ہیں۔ محمد علی نے کہا کہ پاکستان میں اصلاحات کے منصوبوں کی کمی نہیں، اصل مسئلہ ان پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد اور تسلسل کا ہے۔
توانائی اور اصلاحات کا تسلسل
مشیر نجکاری نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں سستی، قابلِ بھروسہ اور پائیدار توانائی کی فراہمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ معیشت کی دستاویزی شکل سے ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے 17 سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل جاری ہے جن میں 9 پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اور 3 بڑے ایئر پورٹس بھی شامل ہیں۔ اسی ضمن میں حکومت جام کمال خان: حکومت برآمد کنندگان کے مسائل حل کرنے پر پرعزم کے وژن کے تحت برآمدات بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔
برآمدات اور انسانی وسائل کی اہمیت
مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ پاکستان میں بچت کی شرح جی ڈی پی کا 14 فیصد ہے جبکہ بنگلہ دیش میں 34 فیصد اور بھارت میں 30 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر جبکہ اشیا کی برآمدات 30 ارب ڈالر ہیں۔ مشیر نجکاری نے کہا کہ صرف ترسیلاتِ زر پر انحصار کافی نہیں، برآمدات بڑھانے کے لیے اعلیٰ معیاری مصنوعات اور خدمات کی تیاری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کے لیے تعلیمی اور تکنیکی تربیت کو انڈسٹری کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ جیسا کہ قیصر احمد شیخ: پاکستان سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے، اسی طرح پاکستانی کمپنیوں کے لیے بھی ترقی کے اگلے مرحلہ کے طور پر بین الاقوامی سطح پر وسعت پانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشینری اور سرمایہ درآمد کیا جا سکتا ہے مگر صنعت کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر مند افرادی قوت خود تیار کرنا پڑتی ہے۔
خواتین کی شمولیت اور مستقبل کا لائحہ عمل
مشیر نجکاری نے کہا کہ خواتین کے لیے ہنر اور روزگار کے مواقع، معاشی شمولیت کے ساتھ ساتھ ملکی مسابقت کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں گروئنگ ویمن پاکستان کی بانی چیئرپرسن رومانہ چوہدری کا رپورٹ ڈیجیٹل اور تھری ڈی میڈیا کے دفتر کا دورہ، خواتین کے حقوق، ملکی صورتحال اور صحافتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال جیسی کوششیں خوش آئند ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں معاشی ترقی کے پانچ بنیادی نکات میں بہترین شعبوں پر توجہ، غیر متزلزل اصلاحات، نجی سرمائے کا فروغ، برآمدات میں اضافہ اور ٹیلنٹ کی ترقی شامل ہیں۔
اہم سوالات و جوابات
پاکستان کو معاشی استحکام کیلئے کن شعبوں پر توجہ دینی چاہیے؟
مشیر نجکاری محمد علی کے مطابق زراعت، ایگری پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، ملبوسات اور آئی ٹی و ڈیجیٹل سروسز وہ اہم شعبے ہیں جو ترقی کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔
حکومت کتنے سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام کر رہی ہے؟
حکومت اس وقت مجموعی طور پر 17 سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام کر رہی ہے، جن میں 9 پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اور 3 بڑے ایئر پورٹس شامل ہیں۔
