عطا تارڑ کی کے پی میں دہشت گردی پر پی ٹی آئی تنقید
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بدھ کے روز خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکومت پر انسداد دہشت گردی کے لیے عزم کے فقدان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی قیادت صوبے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے درکار پختگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی، اپوزیشن کی مخالفت، نعرے بازی کے تناظر میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں نے مذاکرات میں حصہ لیا تھا، انہوں نے بظاہر نتائج کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد دی، تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بعد ازاں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کے عزم سے انکار کر دیا۔
کے پی میں سیکیورٹی صورتحال پر عطا اللہ تارڑ کا موقف
عطا اللہ تارڑ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ڈیرہ اسماعیل خان میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ، 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی ہوئے، ہنگو اور کوہاٹ میں حملے ہو رہے ہیں اور دہشت گرد آزادانہ گھوم رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ دھرنا دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا عزم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ریمارکس کی تائید کی اور پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کی ناتجربہ کاری کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
حکومتی رٹ اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا امکان
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بظاہر صوبائی قیادت کو حکمرانی یا صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ جمعرات کے روز پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایکسپورٹ لیڈ گروتھ ناگزیر ہے، تاہم داخلی سیکیورٹی کی صورتحال اس کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اہم نکات
- وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کو ناکام قرار دیا۔
- عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا عزم کرنے سے انکار کیا ہے۔
- خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات کو طلب کیا گیا ہے۔
اہم سوالات و جوابات
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال پر حکومت کا اگلا قدم کیا ہوگا؟
وفاقی حکومت نے معاملے پر غور کے لیے جمعرات کے روز پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے جس میں گورنر راج کے نفاذ کا جائزہ لیا جائے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی قیادت پر کن بنیادوں پر تنقید کی؟
وفاقی وزیر کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے اور صوبے میں امن و امان کے بجائے دھرنوں کو ترجیح دے رہی ہے۔
