قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی، اپوزیشن کی مخالفت، نعرے بازی
قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی، اپوزیشن کی مخالفت، نعرے بازی
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی اعلان کی توثیق کے لیے پیش کی گئی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے قرارداد ایوان میں پیش کی، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے چار گھنٹے سے زائد بحث کی۔ اپوزیشن نے ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں نعرے بازی بھی کی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدر مملکت کے 11 اکتوبر کے اعلان کی منظوری کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اس اہم معاملے پر بحث کے لیے سوالات کا وقفہ بھی معطل کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے صدر مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کو ایوان کے سامنے پیش کیا اور اس کی توثیق کے لیے قرارداد پیش کی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے صدارتی اعلان کی پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہے۔
حکومتی ارکان نے ایمرجنسی کے نفاذ کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات مؤثر بنانے کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ اپوزیشن ارکان نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔
قرارداد پر چار گھنٹے سے زائد بحث کے بعد قومی اسمبلی نے کثرتِ رائے سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد منظور کر لی۔ اجلاس کی کارروائی مکمل ہونے پر قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
