ایف پی سی سی آئی کا بجلی ٹیرف میں کمی کا خیرمقدم، مزید ریلیف کا مطالبہ
کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے گزشتہ دو برسوں کے دوران صنعتی بجلی کے ٹیرف میں 16 سینٹ سے 12 سینٹ فی یونٹ تک کمی کے حکومتی اقدام کو سراہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدات میں اضافے اور درآمدات کو محدود کرنے کے لیے ٹیرف کو تمام صنعتی صارفین کے لیے 9 سینٹ سے نیچے لانا ناگزیر ہے۔
ایف پی سی سی آئی کی جانب سے صنعتی بجلی ٹیرف پر مؤقف
عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا کہ 12 سینٹ کی موجودہ شرح اور مخصوص اسکیمیں عارضی حل ہیں، اور صرف تمام صنعتوں کے لیے یکساں کمی ہی ملک کی معاشی ترقی کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے بجلی سردار اویس احمد خان لغاری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی قیادت میں صنعتی طلب کے لیے متعارف کرائے گئے دو اقدامات، یعنی انکریمنٹل کنزمپشن پیکج اور آپشنل ٹو-پارٹ ٹو یو ٹیرف (Optional Two-Part ToU Tariff) کو سراہا۔ جیسا کہ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں دانش آئی ٹی پارک کا افتتاح کر دیا ہے، اسی طرح صنعت کاری کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
انکریمنٹل کنزمپشن پیکج اور ٹو-پارٹ ٹو یو ٹیرف کی تفصیلات
ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے کہا کہ انکریمنٹل کنزمپشن پیکج کے تحت صارف کی گزشتہ کھپت سے زائد بجلی کے استعمال پر رعایتی نرخ دیے جا رہے ہیں۔ جبکہ ٹو-پارٹ ٹو یو ٹیرف کا مقصد صنعتوں کو دن کے اوقات میں، جب شمسی توانائی وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے، زیادہ بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں وفاقی وزیر کی صنعت کاروں کے ساتھ مشاورت کے لیے تین سیشنز کے انعقاد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ذیابیطس کی روک تھام کیلئے جامع حکمت عملی کی طرح دیگر شعبوں میں بھی اصلاحات کا عمل جاری ہے۔
صنعتی تحفظات اور مستقبل کی حکمت عملی
عاطف اکرام شیخ نے انکشاف کیا کہ صنعت کاروں نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاور ڈویژن کے سامنے ٹو-پارٹ ٹو یو ٹیرف پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جن میں فکسڈ چارجز کی زیادتی اور جنگی صورتحال کے باعث لاجسٹک مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ایک صنعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے تمام صارفین پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ایسی پالیسی اپنائی جائے جس سے صنعتی پیداوار میں حقیقی معنوں میں اضافہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے جامع عدالتی اور ادارہ جاتی اصلاحاتی رپورٹ جاری کر دی ہے اور اسی طرح صنعتی پالیسیوں میں بھی شفافیت ہونی چاہیے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بجلی کے ٹیرف کے تعین کے لیے نجی شعبے کے انرجی ماہرین کی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی مقصد پاکستان کی کل صنعتی پیداوار کو بڑھانا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اخراجات کو ایک صنعت سے دوسری صنعت میں منتقل کرنا۔
