مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 434,156 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,802 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 434,156 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,802
تازہ ترین

مودی سرکار کا انتخابی نظام عالمی تنقید کی زد میں، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

📅 پیر، 28 ستمبر 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 2 منٹ
آپریشن سندور پر مودی حکومت کی غلط بیانی بے نقاب، اپوزیشن اور سابق فوجی قیادت کا شدید غصہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

نئی دہلی۔28ستمبر (دوست نیوز):مودی دور حکومت میں انتخابی عمل اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری کے تناظر میں بھارت بھر میں احتجاج اور استعفوں کے مطالبات شدت اختیار کر گئے ، بھارتی انتخابی نظام عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور ماہرین نے بھارت میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

عالمی جریدے "دی سٹریٹس ٹائمز” کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے کانگریس مظاہرین پر بھارتی پولیس نے شدید آنسو گیس کی شیلنگ کی اور طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ دوسری جانب ہانگ کانگ کے اخبار "ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ” نے رپورٹ کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں دھاندلی اور سنگین بے ضابطگیوں پر سیاسی حلقوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

بھارتی جریدے "دی وائر” کے مطابق پولیس نے ووٹر لسٹوں کی خرابیوں کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ اور عام شہریوں کو ہراساں کیا اور درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ ملکی و بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے متنازع ہونے سے بھارت میں نام نہاد جمہوری ساکھ اور شفاف انتخابات کے دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔

ٹیگز: #india #international
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں