پاکستانی قالینوں کی عالمی منڈی میں مسابقتی پوزیشن کیلئے جدید ٹیکنالوجی ناگزیر
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرپرسن اعجاز الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت، بہتر انفراسٹرکچر، مارکیٹ ریسرچ اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی پر فوری توجہ دینا ہوگی وگرنہ دیگر ممالک کی بڑھتی ہوئی مسابقت پاکستانی قالینوں کے مارکیٹ شیئر کو مزید متاثر کرسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے اجلاس میں عالمی منڈی میں پاکستانی قالینوں کے حجم کے حوالے سے حالیہ جائزے کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے عالمی قالین صنعت کا اہم حصہ رہا ہے تاہم گزشتہ کئی برسوں میں خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھائو، پیداواری لاگت میں اضافہ، ہنرمند افرادی قوت کی کمی، کم پیداواری حجم، جدید ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کا فقدان صنعت کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
صنعتی چیلنجز اور مسابقت
سیاسی عدم استحکام، سکیورٹی مسائل، ریگولیٹری رکاوٹیں اور کم منافع بھی صنعت کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ اعجاز الرحمان نے کہا کہ مارکیٹ ریسرچ میں عدم دلچسپی، مضبوط کاروباری شراکت داری کا فقدان اور بین الاقوامی معیار کے تقاضوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا بھی پاکستانی قالینوں کی صنعت کی مسابقتی پوزیشن کو متاثر کر رہا ہے۔ دیگر ممالک سے کم لاگت کے قالینوں کی بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث پاکستانی مینوفیکچررز کو قیمت کے ساتھ معیار اور روایتی دستکاری برقرار رکھنے کے لیے بھی سخت محنت کرنا ہوگی۔
حکومتی اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے فروغ کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک اور بعض ٹیکس مراعات موجود ہیں تاہم ہنرمندی کے فروغ، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی اور صنعتی معاونت کے لیے مزید موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ جیسے کہ ملک میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس کی بحث جاری ہے، اسی طرح معاشی استحکام کیلئے صنعتی اصلاحات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکلات کے باوجود امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی بڑھتی طلب پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے جس کے لئے غیر معمولی منصوبہ بندی نا گزیر ہے، جدید ٹیکنالوجی، معیار میں بہتری، موثر مارکیٹنگ اور پاکستان کی روایتی قالین بافی کو عالمی طلب سے جوڑ کر اس صنعت کو دوبارہ مستحکم کیا جاسکتا ہے کیونکہ جامع اور بروقت حکمت عملی کے ذریعے آنے والے برسوں میں پاکستانی قالینوں کی عالمی مارکیٹ میں پوزیشن بہتر بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
