برآمدات بڑھانے کیلئے پیداواری لاگت میں کمی ناگزیر ہے، مدثر مسعود
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) انجم نثار گروپ کے رکن اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق ایگزیکٹو کمیٹی ممبر مدثر مسعود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے صنعت و تجارت کو درپیش بنیادی مشکلات کو فوری طور پر دور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلند شرح سود، مہنگی توانائی اور خام مال کی درآمد پر عائد مالی بوجھ پیداواری لاگت میں اضافے کا سب سے بڑا سبب بن رہے ہیں۔ ان عوامل کے باعث پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں اپنی مسابقتی برتری برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
اپنے ایک بیان میں مدثر مسعود چوہدری نے مزید کہا کہ برآمدی صنعتوں کیلئے پالیسیوں میں تسلسل اور کاروبار دوست اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی اہم سفارتی فتح ہے، اسی طرح صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت کم کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے حکومت کو موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ برآمدات بڑھانے کیلئے محض نئے اداروں کے قیام یا محض پالیسی اعلانات کے بجائے موجودہ مسائل کے عملی اور مستقل حل پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس، توانائی، مالیاتی اور تجارتی پالیسیوں میں باہمی ربط پیدا کر کے ہی صنعت کو مستحکم بنیادیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی معاشی حالات اور خطے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے پیش نظر پاکستانی برآمد کنندگان کو اضافی سہولیات اور سازگار ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے۔ پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ نہ صرف برآمدی اہداف کے حصول کو متاثر کر رہا ہے بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ برآمدی شعبے کیلئے ایسی طویل المدتی اور مستقل پالیسی مرتب کرے جس سے کاروباری برادری مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکے۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کا پراپرٹی ٹیکس بلز 10 کاروباری دنوں میں جاری کرنے کا اعلان جبکہ سعودیہ، پاکستان، ترکی کا مکہ معاہدہ کو ادارہ جاتی بنانے کا فیصلہ، سعودی عرب میں سیکریٹیریٹ اور پاکستان پہلا سربراہ جیسے اقدامات کے طرز پر صنعتی سہولت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
