مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507
بزنس

نیپال کی سفیر کا پاکستان، نیپال براہِ راست فضائی رابطہ بحال کرنے پر زور

📅 جمعرات، 27 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
نیپال کی سفیر کا پاکستان، نیپال براہِ راست فضائی رابطہ بحال کرنے پر زور (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ نیپال کی سفیر ریٹا دھیتال نے پاکستان اور نیپال کے درمیان براہِ راست فضائی رابطہ بحال کرنے، تجارتی وفود کے باقاعدہ تبادلے اور سنگل کنٹری نمائشوں کے ذریعے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کے فروغ پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہِ راست فضائی رابطہ تجارت، سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

سفیر ریٹا دھیتال لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) میں ایک اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں جہاں انہوں نے صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل سے ملاقات کی۔ سفیر نے بتایا کہ ماضی میں نیپال ایئر لائنز کراچی جبکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز اسلام آباد سے کھٹمنڈو کے لیے پروازیں چلاتی رہی ہیں، تاہم یہ فضائی رابطہ 2011 میں معطل ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ براہِ راست پروازوں کی بحالی سے کاروباری سفر، سیاحت اور عوامی روابط میں اضافہ ہوگا۔ سفیر ریٹا دھیتال نے پاکستانی کاروباری افراد کو نیپال میں سیاحت و ہوٹلنگ، پن بجلی، رینیو ایبل انرجی اور آئی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے نیپالی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان 1960 سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک سارک کے رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر حکومت کے بڑھتے قرضے ملکی معیشت پر دباؤ ہیں، کے باوجود علاقائی امن، باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

نیپال کی سفیر کا پاکستان، نیپال براہِ راست فضائی رابطہ بحال کرنے پر زور (تصویر 2)

ملاقات میں سابق صدر لاہور چیمبر میاں انجم نثار، نائب صدر خرم لودھی، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران فردوس نثار، عبدالمجید، عمران سلیمی، رانا شعبان اختر اور ندیم انساری، جبکہ مجاہد الرحمن، حامد اللہ خان اور دیگر کاروباری نمائندگان بھی موجود تھے۔

فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے بہترین دوستانہ تعلقات کے باوجود دونوں ممالک کی باہمی تجارت تقریباً 4 ملین ڈالر ہے، جو موجودہ تعلقات اور تجارتی صلاحیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ 2025-26 میں پاکستان کی نیپال کو برآمدات تقریباً 1.4 ملین ڈالر جبکہ نیپال سے درآمدات تقریباً 2.8 ملین ڈالر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیپال کو سرجیکل آلات، ادویات، ملبوسات اور مصالحہ جات برآمد کرتا ہے جبکہ نیپال سے پرفیومری میں استعمال ہونے والے پودے، الائچی، افیون فائبر اور آرتھوپیڈک آلات درآمد کیے جاتے ہیں۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ دونوں ممالک سیاحت اور ہوٹلنگ کے شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپال میں ماؤنٹ ایورسٹ اور پاکستان میں کے ٹو موجود ہے، اس لیے مشترکہ ایکو ٹورازم اور ہوٹلنگ منصوبوں کے ذریعے جنوبی ایشیا میں ایڈونچر ٹورازم کا نیا کوریڈور بنایا جا سکتا ہے۔

نیپال کی سفیر کا پاکستان، نیپال براہِ راست فضائی رابطہ بحال کرنے پر زور (تصویر 3)

سفیر ریٹا دھیتال نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان کئی دہائیوں سے باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی دوستانہ تعلقات ہیں، تاہم دونوں ممالک کے معاشی اور تجارتی تعلقات ان تعلقات کی حقیقی صلاحیت کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور نیپال نے 1982 میں تجارتی معاہدہ کیا، 1983 میں مشترکہ اقتصادی کمیشن قائم ہوا، جبکہ دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کا معاہدہ 2001 میں ہوا تھا۔ دونوں ممالک کے چیمبرز کے درمیان مشترکہ بزنس کونسل 1996 میں قائم ہوئی جبکہ نیپال چیمبر آف کامرس اور لاہور چیمبر کے درمیان مفاہمت کی یادداشت 1993 میں ہوئی تھی۔

سفیر نے کہا کہ حکومتیں معاہدے کر سکتی ہیں لیکن انہیں عملی معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنے کا کام کاروباری برادری کو کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے کاروباری افراد پر زور دیا کہ موجودہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کو باقاعدہ تجارتی روابط اور عملی کاروباری اقدامات کے ذریعے فعال بنایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی سرمایہ کار ماضی میں نیپال میں ٹیکسٹائل، ہوٹلنگ اور بینکنگ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے کر چکے ہیں۔ ٹیکسٹائل، لیدر مصنوعات اور سرجیکل آلات پاکستانی کاروبار کے لیے جبکہ چائے، کافی، جڑی بوٹیاں، دستکاری اور زرعی مصنوعات نیپال کے لیے پاکستان میں بہتر مواقع فراہم کر سکتی ہیں۔

سفیر نے لاہور چیمبر کی قیادت اور ارکان کو نیپال کا تجارتی وفد لے جانے کی دعوت دی اور یقین دلایا کہ سفارتخانہ کاروباری ملاقاتوں کے انعقاد اور نیپال میں سنگل کنٹری نمائشوں کے لیے بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 میں تقریباً 5 ہزار پاکستانیوں نے نیپال کا دورہ کیا۔ پاکستانی شہری کھٹمنڈو کے تریبھون انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آمد پر ویزا حاصل کر سکتے ہیں جبکہ ایک کیلنڈر سال میں پہلے 30 دن کا ویزا فیس سے مستثنیٰ ہے۔ انہوں نے اس موقع پر امریکا نے دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز معطل کر دیئے کی خبر کے تناظر میں سفری سہولیات کی اہمیت پر بھی بات کی، جبکہ پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر تاجر برادری رنجیدہ، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کے حوالے سے مقامی سماجی معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

ٹیگز: #پاکستان نیپال تعلقات #تجارتی تعلقات #ریٹا دھیتال #سیاحت #لاہور چیمبر آف کامرس
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں