مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507
بزنس

حکومت کے بڑھتے قرضے ملکی معیشت پر دباؤ ہیں، پیاف قیادت

📅 جمعرات، 27 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
حکومت کے بڑھتے قرضے ملکی معیشت پر دباؤ ہیں، پیاف قیادت
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایٹڈ فرنٹ (پیاف) کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن چیف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مالیاتی خسارے کا جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک آنا بلاشبہ ایک حوصلہ افزا امر ہے، تاہم محض ایک سال کے بہتر اعدادوشمار کو معاشی مسائل کا مستقل حل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے سرپلس، قرضوں کی سروسنگ میں کمی اور دیگر وقتی عوامل نے مالیاتی صورتحال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے، لیکن محصولات کی بنیاد کو مستحکم کرنا اب بھی ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔

ٹیکس نیٹ کی توسیع اور معاشی اصلاحات

رہنماؤں نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور محصولات کے اہداف کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر حاصل کرنے کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان میری ٹائم سیکٹر میں اصلاحات سے عالمی تجارتی مرکز بنے گا اور اس ضمن میں معاشی پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ حکومتی قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے ملکی وسائل کا ایک بڑا حصہ مختص ہو جانے کے باعث ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے مالی گنجائش محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

نجی شعبے کے لیے چیلنجز

پیاف کے رہنماؤں کے مطابق، بلند قرضہ جاتی ضروریات نجی شعبے کے لیے دستیاب مالی وسائل اور سرمایہ کاری کے مواقع کو براہ راست متاثر کر رہی ہیں۔ شرح سود میں کمی کے لیے مالیاتی نظم و ضبط ایک بنیادی شرط ہے، کیونکہ بلند شرح سود نہ صرف کاروباری لاگت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ نئی سرمایہ کاری کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیر علی پرویز ملک کا سوئی سدرن گیس کمپنی کا دورہ بھی اہم امور کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم کاروباری برادری کا مطالبہ ہے کہ ٹیکس نیٹ میں نئے شعبوں اور افراد کو شامل کیا جائے اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔

عالمی اعتماد اور کریڈٹ ریٹنگ

پیاف قیادت نے زور دیا کہ سرکاری اخراجات میں غیرضروری اضافے کو روکنا، ترقیاتی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے معاشی اصلاحات کا تسلسل لازم ہے۔ پاکستان بشکیک میں ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کے اجلاس کے بعد تنظیم کی صدارت سنبھالے گا، ترجمان دفتر خارجہ کے اس عزم کی طرح، بہتر ریٹنگ اور کم خطرہ پریمیم کے حصول کے لیے حکومت کو قرضوں، مالی خسارے اور بیرونی مالیاتی ضروریات کو بتدریج کم کرنے کے لیے ایک جامع اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔

ٹیگز: #ایف بی آر #پیاف #ٹیکس #قرضے #معیشت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں