پاکستان کی بنگلہ دیش کو قانونی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن میں تعاون کی پیشکش
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان قانونی اصلاحات اور نظام انصاف کی ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تجربات اور مہارت کا تبادلہ کرنے اور تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے یہ بات بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان سے ملاقات کے دوران کہی، جنہوں نے پیر کو یہاں وزارتِ قانون و انصاف میں وفاقی وزیر سے ملاقات کی۔
پاک بنگلہ دیش قانونی تعاون اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
ملاقات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے دوطرفہ تعلقات، قانونی و عدالتی تعاون، ثالثی و مصالحتی نظام اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں اطراف نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ہونے والی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ یہ وہی شعبے ہیں جہاں عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بڑھا دی ہے، جو ملکی استحکام کے لیے نیک شگون ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان قانون و انصاف سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
نظامِ انصاف کی جدید کاری اور ڈیجیٹلائزیشن کا عزم
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے قانونی و عدالتی شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک باہمی تجربات اور مہارتوں کے تبادلے کے ذریعے اپنے نظام انصاف کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانونی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نظام انصاف کی ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ اعلیٰ سندھ کی اہم ملاقات میں بھی ملکی اداروں میں اصلاحات پر زور دیا گیا تھا۔
ثالثی اور مصالحتی نظام میں پیش رفت
بنگلہ دیشی ہائی کمشنر نے انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (IMAC) میں بنگلہ دیشی ججز کی تربیت کے حوالے سے پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے ثالثی و مصالحتی پروگرامز میں تعاون کو سراہا۔ ہائی کمشنر نے پاکستان کے ثالثی اور مصالحتی نظام کے تجربات سے استفادہ کرنے میں بنگلہ دیش کی دلچسپی کا اظہار کیا اور اس شعبے میں مزید تعاون کی خواہش ظاہر کی۔ یاد رہے کہ حکومت ماضی میں بھی اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں رہی ہے، جیسا کہ قازاخستان میں صدر توکایف کی حامی جماعت ادلیت کی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی جیسے بین الاقوامی تعلقات سے پاکستان بھی سبق سیکھ رہا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں اطراف نے عوامی رابطوں اور ادارہ جاتی روابط میں اضافے کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے دوطرفہ تعلقات کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
