نیشنل انٹیگریٹڈ انرجی پلان، کاروباری برادری کی مشاورت ناگزیر: فہیم الرحمن

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی جانب سے ‘نیشنل انٹیگریٹڈ انرجی پلان 2027-2060’ کے اعلیٰ سطحی ڈیزائن کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے توانائی کے نظام کو زیادہ مؤثر، سستا، قابلِ اعتماد اور پائیدار بنانے کی جانب ایک مثبت اور اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
معاشی مسابقت کے لیے طویل مدتی حکمت عملی
فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان کی معاشی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک طویل مدتی اور مربوط توانائی کی حکمت عملی ناگزیر ہے، خاص طور پر صنعتی اور برآمدی شعبوں کے لیے جنہیں بین الاقوامی سطح پر مسابقتی قیمتوں پر توانائی کی مسلسل فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ملک میں پاکستان میں گوگل کا آفس کھولنے سے ملک کو آئی ٹی ہب بنانے میں مدد ملے گی، افتخار علی ملک کی بات کی گئی ہے، اسی طرح توانائی کے شعبے میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت ہے۔
توانائی کے شعبوں میں یکجہتی
صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ بجلی، پٹرولیم، گیس اور توانائی کے دیگر شعبوں کو ایک متحد طویل مدتی منصوبہ بندی کے فریم ورک کے تحت لانے سے کام میں بکھراؤ کو ختم کرنے، وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنانے اور انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے غیر ضروری دوہراؤ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل انٹیگریٹڈ انرجی پلان کی کامیابی کا دارومدار اس کے مؤثر نفاذ اور کاروباری طبقے اور صارفین کے لیے ٹھوس فوائد میں منتقلی پر ہوگا۔
مقامی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
فہیم الرحمن سہگل کا کہنا تھا کہ مقامی توانائی کے وسائل، قابلِ تجدید توانائی اور انرجی اسٹوریج جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا زیادہ استعمال پاکستان کو مہنگی درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کو کم کرنے اور ملک کی توانائی سکیورٹی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی کا صنعتی پیداوار، برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔
کاروباری برادری کی مشاورت
صدر لاہور چیمبر نے مطالبہ کیا کہ نیشنل انٹیگریٹڈ انرجی پلان کی تفصیلی تشکیل کے دوران کاروباری برادری، خاص طور پر چیمبرز آف کامرس، صنعتی انجمنوں اور توانائی استعمال کرنے والے بڑے شعبوں کے ساتھ بامعنی مشاورت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو توانائی کے شعبے میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اور عملی حل تیار کرنے میں مؤثر کردار دیا جانا چاہیے، کیونکہ صنعت بجلی اور گیس کے بڑے صارفین میں شامل ہے اور توانائی کی قیمت، دستیابی اور فراہمی سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔
ساختی اصلاحات کی ضرورت
فہیم الرحمن سہگل نے توانائی کے شعبے میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کی ناکارگی، گردشی قرضے، صلاحیت سے متعلق اخراجات اور گورننس کے چیلنجز سمیت ساختی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ ایسی اصلاحات بھی ہونی چاہئیں جو یہ یقینی بنائیں کہ کارکردگی میں اضافے کے فوائد کاروباری برادری اور عوام تک پہنچیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ترقی و اچھی حکمرانی کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہیں، بزنس کمیونٹی جنوبی پنجاب کا مطالبہ کرتی رہی ہے، اسی طرح معاشی استحکام کے لیے توانائی کے شعبے میں شفافیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ آخر میں انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر توانائی پالیسیوں میں بہتری لائی جائے تو گوگل کا پاکستان میں دفتر، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کیلئے سنگِ میل کی طرح یہ قدم بھی ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
