لیسکو میں کوئی نو گو ایریا نہیں، ریکوری 101 فیصد، اووربلنگ صفر ہے، چیف انجینئر رمضان بٹ

لیسکو میں کوئی نو گو ایریا نہیں، ریکوری 101 فیصد، اووربلنگ صفر ہے، چیف انجینئر رمضان بٹ
لاہور: لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے چیف انجینئر رمضان بٹ نے کہا ہے کہ لیسکو میں اس وقت کوئی نو گو ایریا نہیں، کمپنی کی ریکوری 101 فیصد جبکہ اووربلنگ صفر ہے۔ لیسکو نے 10 سال پرانے 93 ارب روپے کے بقایا جات کی وصولی بھی شروع کردی ہے۔
لیسکو چیف انجینئر رمضان بٹ نے لاہور پریس کلب کا دورہ کیا، جہاں لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے ان کا استقبال کیا اور انہیں پھول پیش کیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رمضان بٹ نے کہا کہ لیسکو میں اووربلنگ کا خاتمہ، 100 فیصد ریکوری اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری ان کی ترجیحات میں شامل ہیں اور اس حوالے سے کافی حد تک مثبت نتائج حاصل کیے جاچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لیسکو کا شمار ملک کی اعلیٰ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں ہوتا ہے اور ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
چیف انجینئر رمضان بٹ نے بتایا کہ لیسکو کے اربوں روپے کے واجبات بڑے صنعتی صارفین نے مختلف حربوں کے ذریعے روک رکھے تھے۔ کمپنی نے تقریباً 93 ارب روپے کے 10 سال پرانے بقایا جات کی وصولی کا عمل شروع کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسفارمرز کی نجی سطح پر مرمت پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ اوورلوڈنگ کے باعث خراب ہونے والے ٹرانسفارمرز کو تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ صارفین کو بجلی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
رمضان بٹ نے کہا کہ کسی بھی علاقے میں اگر چار سے پانچ گھنٹے سے زائد بجلی بند رہتی ہے تو متعلقہ افسر کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔ بجلی کی بندش کے دورانیے میں کمی اور صارفین کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مانیٹرنگ کا نظام بھی مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیسکو میں نظام کی بہتری، صارفین کے مسائل کا بروقت حل اور بجلی کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانا بنیادی ترجیحات ہیں، جبکہ ادارے کی مجموعی کارکردگی میں مزید بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
اس موقع پر لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے لیسکو چیف انجینئر رمضان بٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں صارفین کے مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مبارکباد دی۔
ارشد انصاری نے امید ظاہر کی کہ رمضان بٹ بجلی کے صارفین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مزید عملی اقدامات کریں گے اور ان کی کوششوں سے بجلی کی فراہمی اور صارفین کی خدمات کے نظام میں مستقل بہتری آئے گی۔
