ہر قیدی کیلئے قانون ایک ہونا چاہیے، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں ہر قیدی کے لیے قانون ایک ہونا چاہیے، بانی پی ٹی آئی کو خصوصی سہولت دینے کا مطالبہ قانون کے خلاف ہے، کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ پیر کو ایوانِ بالا کے اجلاس میں سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر معاملہ قانون اور ضابطے کے مطابق ہونا چاہیے، کسی فرد کے لیے الگ قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس کے حوالے سے جاری سیاسی بحث کے درمیان، انہوں نے واضح کیا کہ قانون سازی کا عمل آئینی بالادستی کا متقاضی ہے۔
قانون سازی اور پارلیمانی ذمہ داریاں
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ یہ کہنا کہ جیل کا دروازہ توڑ کر کسی کو باہر نکال دیا گیا تھا، اس لیے اب ہم بھی اسی طرح باہر جائیں گے، قانون کے مطابق نہیں ہے۔ ہم خود قانون ساز ادارے میں بیٹھے ہیں اور یہ قوانین اسی پارلیمان اور اس سے پہلے آنے والی پارلیمانوں نے بنائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا ہر ملک قانون اور ضابطے کے مطابق چلتا ہے، جیل میں ملاقاتوں کے حوالے سے بھی قواعد موجود ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کا معاملہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
عدالتی ریکارڈ اور سہولیات کا معاملہ
وفاقی وزیرِ قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اس معاملے پر اوپن کورٹ میں سماعت بھی ہوئی، جہاں عدالت نے متعلقہ معاملات پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے بطور فرینڈ آف دی کورٹ بھی رپورٹ پیش کی جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس رپورٹ میں جیل میں بانی پی ٹی آئی کو فراہم کی جانے والی خوراک، صفائی، دیکھ بھال، ورزش کے اوقات، سیل کی سہولیات اور دیگر معاملات کا ذکر کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ شکایت بھی سامنے آئی کہ ان کے علاج کے لیے ان کی پسند کے ڈاکٹر کو اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت سب شہری برابر ہیں تو کسی ایک قیدی کو خصوصی سہولت دینے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟ اگر ایک شخص کو خصوصی اجازت دی جائے گی تو پھر یہی حق ملک کے ہر قیدی کو دینا ہوگا۔ جیسا کہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے اسپیکر خیبر پختونخوا کی ملاقات میں بھی ملکی آئینی امور پر زور دیا گیا، اسی طرح قانون کی حکمرانی ہر سطح پر ضروری ہے۔
قانون کی بالادستی اور مساوات
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے جو قانون عام شہری کے لیے ہے وہی عمران خان، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت ہر شخص کے لیے ہے۔ کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی شخصیت کو دیوتا بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ جیسے ملک کو پاکستان کو کیش لیس معیشت بنانے کیلئے عملی اقدامات جاری ہیں اور دیگر اصلاحات کی ضرورت ہے، ویسے ہی عدالتی اور جیل قوانین پر عمل درآمد لازم ہے۔ جو اصول عمران خان کے لیے ہے وہی نواز شریف اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پارلیمان میں بیٹھے افراد کو چاہیے کہ وہ پہلے قانون پڑھیں اور پھر اس کے مطابق بات کریں، کیونکہ ملک کو آئین اور قانون کے مطابق ہی چلایا جا سکتا ہے۔
