پائلٹ کا مثبت ڈرگ ٹیسٹ اور پرواز 805 کا پراسرار ڈرامہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ایک مسافر طیارہ معمول کے مطابق اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا کہ اچانک صرف چند سیکنڈوں کے اندر 300 فٹ نیچے جا گرا۔ جہاز میں سوار مسافروں کے لیے وہ چند لمحے کسی قیامت سے کم نہیں تھے۔ چیخ و پکار، سامان کا ادھر ادھر گرنا اور فضا میں چھایا خوف—ہر شخص یہی سمجھ رہا تھا کہ شائد یہ ان کی زندگی کی آخری پرواز ہے۔ خوش قسمتی سے کاک پٹ میں موجود عملے نے فوری طور پر کنٹرول سنبھالا اور طیارے کو ایک بڑے حادثے سے بچا کر محفوظ لینڈنگ کروا لی۔ لیکن اصل ڈرامہ لینڈنگ کے بعد اس وقت شروع ہوا جب ابتدائی جانچ کے دوران پائلٹ کا بھنگ (Cannabis) ٹیسٹ مثبت آ گیا۔
واقعے کے بعد عوامی ردعمل اور ابتدائی تحقیقات
اس خبر کے جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے ہی عوامی حلقوں اور میڈیا میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ہر شخص کا یہی خیال تھا کہ حادثے کا ذمہ دار صرف اور صرف نشے میں دھت پائلٹ ہی ہے جس نے سینکڑوں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ لیکن جب ایوی ایشن کے تفتیش کاروں نے معائنہ شروع کیا اور بلیک باکس، کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا کا گہرائی سے تجزیہ کیا، تو انکشاف ہوا کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا نظر آ رہا تھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق یہ کہانی پائلٹ کے ڈرگ ٹیسٹ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تکنیکی باریکیوں سے بھری ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی ایوی ایشن کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بحث جاری رہتی ہے، جس طرح ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی دھمکی جیسے واقعات عالمی منظرنامے کو متاثر کرتے ہیں۔
تکنیکی خرابی یا پائلٹ کی غفلت؟
فلائٹ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ جب طیارہ 300 فٹ نیچے آیا، اس وقت جہاز کا آٹو پائلٹ سسٹم اچانک ڈس کنیکٹ ہو گیا تھا اور شدید فضائی دباؤ (CAT – Clear Air Turbulence) کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مزید یہ کہ طیارے کے ایک سینسر میں فنی خرابی کی وجہ سے غلط الگورتھم نے جہاز کا نوز (آگے کا حصہ) نیچے کی طرف جھکا دیا تھا۔ یعنی جس وقت یہ خوفناک واقعہ پیش آیا، اس وقت پائلٹ نے کمالِ مہارت اور سیکنڈوں کے اندر فیصلہ سازی کرتے ہوئے جہاز کا کنٹرول مینوئل طریقے سے سنبھالا تھا اور اگر وہ لمحہ بھر کی تاخیر کرتا تو طیارہ مکمل طور پر کنٹرول سے باہر ہو سکتا تھا۔ ایوی ایشن کے ماہرین اکثر جدید ٹیکنالوجی کے ان پہلوؤں پر زور دیتے ہیں جیسے کہ پنجاب کو جنوبی ایشیا کا بڑا اے آئی ہب بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے تکنیکی انحصار اب بھی چیلنج بنا ہوا ہے۔
تحقیقات کا دائرہ کار اور مستقبل کے سوالات
اب تفتیش کاروں کے سامنے سب سے بڑا معمہ یہ ہے کہ کیا پائلٹ نے پرواز سے قبل یا پرواز کے دوران نشہ کیا تھا، یا پھر یہ ٹیسٹ کسی دوا یا پرانے اثرات کی وجہ سے مثبت آیا؟ ماہرین کے مطابق بعض اوقات جڑی بوٹیوں پر مشتمل ادویات یا سلیپنگ پِلز کی وجہ سے بھی ڈرگ سکریننگ میں فالس پوزیٹو (False Positive) نتیجہ آ سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا پائلٹ کے اعصاب اور ردِعمل پر اس کا کوئی اثر تھا، یا پھر تمام تر قصور طیارے کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کی تکنیکی خرابی کا تھا؟ ایوی ایشن کے اعلیٰ حکام نے اس معاملے کی حتمی رپورٹ سامنے آنے تک پائلٹ کو گراؤنڈ کر دیا ہے اور طیارے کے ساخت ساز ادارے کو بھی تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف پائلٹس کے طبی معائنہ جات کے سخت نظام پر سوالیہ نشان لگاتا ہے، بلکہ جدید طیاروں کے خودکار سسٹمز کی غیر متوقع خرابیوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرواتا ہے۔ مسافروں کی جان بچانے میں پائلٹ کی فوری تدبیر کا ہاتھ تھا یا یہ صرف ایک حادثاتی بچاؤ تھا، اس کا حتمی فیصلہ اب تفتیشی ٹیم کی آخری رپورٹ ہی کرے گی۔ جیسا کہ سعودی عرب کی قیادت میں 14 ملکی بحری دفاعی اتحاد قائم، پاکستان سمیت 13 ممالک شامل ہے، ایسے ہی حساس معاملے میں شفاف تحقیقات ہی ذمہ داری کا تعین کر سکتی ہیں۔
