مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,063 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,063
عالمی

ورکنگ ایج آبادی کے حامل دنیا کے صفِ اول کے ممالک

📅 جمعہ، 14 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
ورکنگ ایج آبادی کے حامل دنیا کے صفِ اول کے ممالک
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

دبئی (نمائندہ خصوصی)۔ دنیا میں مجموعی آبادی کے تناسب سے ’ورکنگ ایج‘ (کام کرنے کی عمر) کے افراد کی شرح کے اعتبار سے قطر سرِفہرست ہے، جہاں آبادی کا 83.3 فیصد حصہ کام کرنے کی عمر کے افراد پر مشتمل ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات 82 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ ویژول کیپیٹلسٹ کی جانب سے 2025 کے ورلڈ اسٹیٹس کے اعداد و شمار پر مبنی اس نئی درجہ بندی میں ان 15 ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ورکنگ ایج آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اس فہرست میں خلیجی ممالک کی نمایاں تعداد موجود ہے جبکہ پاکستان اس فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

ممالک کی درجہ بندی اور تناسب

اعداد و شمار کے مطابق، کویت 78.4 فیصد ورکنگ ایج آبادی کے ساتھ تیسرے، بحرین 77.4 فیصد کے ساتھ چوتھے، اور مالدیپ 75.6 فیصد کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح سنگاپور 75.2 فیصد کے ساتھ چھٹے، سعودی عرب کی کابینہ کے فیصلوں اور معاشی اصلاحات کے درمیان 73.1 فیصد کے ساتھ ساتویں، جمیکا 73 فیصد کے ساتھ آٹھویں، برونائی دارالسلام 72.5 فیصد کے ساتھ نویں اور بھوٹان 72.2 فیصد کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے۔ فہرست میں عمان 72.1 فیصد کے ساتھ گیارہویں، جنوبی کوریا 70.7 فیصد کے ساتھ بارہویں، ملائیشیا 70.3 فیصد کے ساتھ تیرہویں، تھائی لینڈ 70.2 فیصد کے ساتھ چودہویں، جبکہ آذربائیجان 69.7 فیصد کے ساتھ پندرہویں نمبر پر ہے۔

خلیجی ممالک کی بالادستی اور معاشی اثرات

درجہ بندی میں شامل پہلے 15 ممالک میں خلیج کے چھ ممالک شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی ملک میں ورکنگ ایج آبادی کا زیادہ تناسب معاشی ترقی کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے کیونکہ اس سے ملک کو بڑی افرادی قوت میسر ہوتی ہے۔ تاہم، اس آبادی کو حقیقی معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کے لیے روزگار کے مواقع، معیاری تعلیم، فنی تربیت اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ خلیجی ممالک کی اس فہرست میں نمایاں موجودگی آبادی کے مخصوص ڈھانچے سے منسلک ہے، جہاں غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد مجموعی آبادی میں کام کرنے کی عمر کے افراد کا تناسب بلند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جیسا کہ دبئی میں نئے کاروباری رجحانات اور معاشی سہولیات کے حوالے سے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں ورکنگ کلاس کی شمولیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

پاکستان کے لیے چیلنجز اور مواقع

دوسری جانب، پاکستان اس درجہ بندی کے پہلے 15 ممالک میں شامل نہیں ہے، تاہم ملک میں نوجوان اور ورکنگ ایج آبادی کا ایک بڑا حصہ موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے یہ آبادی معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ یاد رہے کہ ورکنگ ایج آبادی سے مراد عام طور پر 15 سے 64 سال کی عمر کے افراد لیے جاتے ہیں۔ کسی ملک میں اس عمر کے افراد کا زیادہ تناسب ممکنہ معاشی فائدے یعنی ’ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ‘ کا موقع پیدا کرتا ہے، تاہم یہ فائدہ خود بخود حاصل نہیں ہوتا بلکہ مؤثر معاشی اور روزگار پالیسیوں سے ہی اسے عملی ترقی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں زرعی اور صنعتی شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کے لیے مستقبل میں کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹیگز: #پاکستان #عالمی درجہ بندی #قطر #معیشت #ورکنگ ایج آبادی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں