چین کا ہانگ لیان ہائبرڈ چاول پاکستان کی پیداوار میں انقلاب لانے کو تیار

چین کا ہانگ لیان ہائبرڈ چاول پاکستان کی پیداوار میں انقلاب لانے کو تیار
اسلام آباد: پاکستان میں ہانگ لیان قسم کے ہائبرڈ چاولوں کے وسیع پیمانے پر فروغ سے چاول کی پیداوار میں نمایاں اضافہ اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اربوں روپے کا اضافہ ممکن ہے۔ چینی اور پاکستانی ماہرین نے چین میں ہونے والے ایک بین الاقوامی سمپوزیم کے دوران ہائبرڈ چاول کی اس ٹیکنالوجی کے پاکستان میں امکانات کو اجاگر کیا ہے۔
میٹس گلوبل کے مطابق ہوبئی صوبے کے شہر لووتیان میں ہانگ لیان قسم کے ہائبرڈ چاولوں کی بہتر اقسام کی افزائش سے متعلق دوسری بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد ہوا، جس میں چین اور پاکستان کے ماہرین نے ہائبرڈ چاولوں پر تحقیق، نئی اقسام کی تیاری اور کسانوں پر اس ٹیکنالوجی کے معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔
ہانگ لیان ہائبرڈ چاول چین کی ووہان یونیورسٹی کے مرحوم ماہر تعلیم ژو ینگ گو نے تیار کیے تھے۔ یہ دنیا بھر میں ہائبرڈ چاول کی افزائش کے لیے استعمال ہونے والے تین بڑے سائٹوپلازمک میل اسٹرلٹی نظاموں میں شامل ہے۔ اس قسم کے چاول زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے، مختلف ماحولیاتی حالات سے مطابقت رکھنے اور بہتر معیار کے دانے کی خصوصیات رکھتے ہیں۔
ووہان یونیورسٹی کے ڈپٹی پارٹی سیکریٹری کو وین چیان کے مطابق ہانگ لیان ہائبرڈ چاول چین اور بیلٹ اینڈ روڈ شراکت دار ممالک میں اب تک 9 ارب یوآن سے زیادہ کے براہ راست معاشی فوائد پیدا کرچکے ہیں۔
پاکستان میں بھی اس ٹیکنالوجی کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں زیادہ درجہ حرارت، پانی کی کمی اور زمین کی زرخیزی میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد اشفاق نے بتایا کہ پاکستان میں چاول کی کاشت کے کل رقبے کا تقریباً ایک تہائی حصہ موٹے چاولوں پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق اگر ان علاقوں میں ہائبرڈ چاول کی کاشت متعارف کرائی جائے تو پیداوار کو ممکنہ طور پر دوگنا کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو ہائبرڈ چاولوں کی کاشت میں توسیع کے لیے اہم خطے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہانگ لیان اقسام کے وسیع پیمانے پر استعمال سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ کاشتکاروں اور ملکی معیشت کو اربوں روپے کا اضافی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
چین اور پاکستان کے درمیان ہانگ لیان ہائبرڈ چاول کے شعبے میں تعاون 2020 میں اس وقت مزید مضبوط ہوا جب ووہان یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر ہانگ لیان ٹائپ ہائبرڈ رائس کے لیے جوائنٹ ریسرچ سینٹر قائم کیا۔
پاکستان کے چاول پیدا کرنے والے چار بڑے علاقوں میں متعدد مقامات پر تجربات کے دوران ہانگ لیان ہائبرڈ چاول کی نو لائنز کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے HP4 نامی قسم کو 2025 میں پاکستان میں PU-786 کے نام سے باضابطہ طور پر رجسٹر کیا گیا۔
قومی سطح پر تجارتی منظوری ملنے کے بعد PU-786 کو 2026 میں پاکستان بھر میں تجارتی بنیادوں پر کاشت کے لیے متعارف کرایا گیا۔ اس قسم نے زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے، کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور پانی کی کمی اور کمزور زمینوں میں بہتر موافقت کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
اس سے قبل جون 2026 میں چائنا ڈیلی نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ چینی اور پاکستانی ماہرین کی مشترکہ طور پر تیار کردہ PU-786 قسم کو پاکستان میں موسم گرما کے دوران وسیع پیمانے پر کاشت کے لیے متعارف کرانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ قسم پاکستان کے ماحولیاتی اور موسمی حالات کے مطابق تیار کی گئی ہے اور زیادہ پیداوار، بہتر معیار اور مختلف ماحول سے مطابقت رکھنے کی خصوصیات رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہانگ لیان ہائبرڈ چاول پاکستان میں چاول کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ مضبوط کرنے، پانی اور موسمیاتی دباؤ سے نمٹنے اور چاول کے کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
چینی اور پاکستانی ماہرین کے درمیان جاری تعاون کو دونوں ممالک کے زرعی شعبے میں طویل المدتی شراکت داری کی ایک اہم مثال قرار دیا جارہا ہے، جبکہ ہانگ لیان ٹیکنالوجی پاکستان میں چاول کی پیداوار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم موقع کے طور پر سامنے آئی ہے۔
