مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,635 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,635
قومی

پاکستان اور ناروے کا اعلیٰ سطحی تجارتی و سفارتی روابط بڑھانے کا عزم

📅 جمعہ، 14 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان اور ناروے نے اعلیٰ سطح کے روابط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان بندرگاہی رابطوں اور بحری جہاز رانی کے روابط، ناروے کے لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس برآمدات اور اوسلو انوویشن ویک جیسے پروگراموں میں پاکستانی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی شرکت شامل ہے۔ دونوں فریقوں نے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور پاکستان اور ای ایف ٹی اے کے درمیان مشترکہ تعاون کے اعلامیہ کے تحت تعاون جاری رکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

دوطرفہ مذاکرات کا تسلسل

جمعرات کو وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کے دورے کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک نے تجارتی رابطوں کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے 13 اگست کو پاکستان کا دورہ کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کا وزارت خارجہ اسلام آباد میں استقبال کیا اور دونوں رہنمائوں نے وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات کیے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس امر کا ذکر کیا گیا کہ یہ دورہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان پہلے سے جاری قریبی اور مسلسل رابطوں کا تسلسل ہے جن میں 13 مارچ اور 7 اپریل کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو بھی شامل ہے جس کے دوران علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ دونوں وزراء نے اعلیٰ سطح کے باقاعدہ رابطوں کو برقرار رکھنے اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کو فروغ دینے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

اقتصادی اور تجارتی تعاون

وزرائے خارجہ نے دوطرفہ سیاسی مشاورت کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا اور اسے دونوں وزارتوں کے درمیان مسلسل روابط کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ دونوں فریقوں نے 14ویں دور کی دوطرفہ سیاسی مشاورت دسمبر 2026ء میں اسلام آباد میں منعقد کرنے کے عزم کی تصدیق کی۔ اقتصادی امور کے حوالے سے دونوں رہنمائوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان نے قابل تجدید توانائی، کان کنی، آف شور تیل و گیس، آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس اور جہاز توڑنے و ری سائیکلنگ کے شعبوں کو ناروے کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ممکنہ شعبوں کے طور پر پیش کیا۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت جیسے اقدامات ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں۔

ماحولیاتی اور ترقیاتی شراکت داری

دونوں وزرائے نے یکم اپریل 2026ء کو دونوں ممالک کی وزارتوں برائے موسمیاتی امور کے درمیان پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے تدارک کے اہداف کے حصول کے لیے تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ پاکستان نے قابل تجدید توانائی، پن بجلی، بائیو گیس اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی شعبے میں ناروے کی مہارت سے مزید استفادہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک نے 1969ء سے جاری پاکستان کے ساتھ ناروے کی ترقیاتی شراکت داری کو مثبت طور پر اجاگر کیا اور تعلیم، صنفی مساوات، انسانی حقوق، غذائی تحفظ اور موسمیاتی موافقت پر اس کی مسلسل توجہ کو سراہا۔ یاد رہے کہ پنجاب میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کی قانونی حیثیت آن لائن چیک کرنے کی سہولت جیسے منصوبے بھی حکومتی شفافیت کا حصہ ہیں۔

عالمی امور اور علاقائی استحکام

پاکستان نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر ناروے کے وزیر خارجہ کو بریفنگ دی، جبکہ ناروے کی جانب سے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے ناروے کو ایران-امریکہ تنازع کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں 17 جون 2026ء کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے تھے۔ اس تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے انقرہ میں پاکستان ہاؤس میں پاکستان کا 79واں یومِ آزادی منایا گیا جیسے واقعات کی اہمیت مسلمہ ہے۔ فلسطین کی صورتحال پر دونوں فریقوں نے بین الاقوامی قانون کے مطابق دو ریاستی حل کی بنیاد پر پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا اور UN80 Initiative کے ذریعے اقوام متحدہ کو زیادہ موثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

ٹیگز: #اسحاق ڈار #پاکستان #تجارتی تعلقات #سفارت کاری #ناروے
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں